صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 145 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 145

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۴۵ ۶۷ - كتاب النكاح ازدواجی تعلق چونکہ جائز ہے تو اس کے نتیجہ میں ان کے حاملہ ہونے کا امکان بھی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پوچھنے کا انداز أَوَ إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ کہ کیا تم ایسا کرتے ہو، سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ان لوگوں کا ذاتی فعل تھا۔پوچھنے پر آپ نے منع تو نہیں فرمایا مگر اس حقیقت کا بیان فرما دیا کہ اگر کسی نفس کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے تو تمہاری ساری احتیاطیں فیل ہو جائیں گی اور وہ روح پیدا ہو جائے گی۔یہ دراصل ایک استثنائی صورت کا بیان ہے ورنہ عام قانون کے مطابق اگر ضبط تولید کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی جائے اور بعض احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو عام قاعدہ کے مطابق شرح پیدائش رک جاتی ہے اس کا تجربہ بہت سے افراد اور قوموں نے کیا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غزوہ بنو مصطلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کے دریافت کرنے پر عزل یعنی برتھ کنٹرول کے متعلق فرمایا کہ میں اسے ناجائز نہیں کہتا۔یعنی بالفاظ دیگر آپ نے اس بات کو جائز قرار دیا کہ کوئی شخص کسی ضرورت ومصلحت سے کوئی ایسی تدبیر اختیار کرے کہ اس کی بیوی کو اس کی مجامعت سے حمل نہ ٹھہرے۔اس فتویٰ کی رو سے ایک مسلمان کے لئے جائز ہو گا کہ اپنی بیوی کی صحت و تندرستی یا اولاد کی صحت و تندرستی یا کسی اور جائز مصلحت سے برتھ کنٹرول کے اصول پر عمل پیرا ہو۔مگر جیسا کہ ایک قرآنی آیت سے استدلال ہوتا ہے اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ غربت اور مالی تنگی کے اندیشہ سے برتھ کنٹرول کا طریق اختیار کیا جاوے۔اور نہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ بیوی کی رضامندی کے بغیر یہ طریق اختیار کیا جاوے۔یہ مسئلہ گو اُس زمانہ کے لحاظ سے ایک بالکل غیر اہم سا مسئلہ تھا مگر موجودہ زمانہ میں اس نے خاصی اہمیت اور دلچپسی اختیار کرلی ہے۔“ سیرت خاتم النبیین صلی ا م ، مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، صفحہ ۶۴۴، ۶۴۵) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ سے عزل کے متعلق پوچھا کہ اس بارہ میں آپ کا کیا حکم ہے فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَالِكَ الْوَادُ الخفي۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بھی ایک واد خفی ہے۔یہ روایت مسلم نے سعید بن ابی ایوب سے اور مالک بن انس سے بھی نقل کی ہے اور ابو داؤد اور الترمذی اور النسائی نے یہ روایت ابی الا سود سے روایت کی ہے۔اس روایت سے بعض لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ