صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 140
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۴ ۶۷ - كتاب النكاح ٥٢٠٣: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۵۲۰۳: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو کیا کہ مروان بن معاویہ (فزاری) نے ہمیں بتایا يَعْفُورٍ قَالَ تَذَا كَرْنَا عِنْدَ أَبِي که ابو یعفور (عبد الرحمن بن عبید کوفی) نے ہم سے الضُّحَى فَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسِ بیان کیا۔انہوں نے کہا: ہم نے ابو ضحی کے پاس قَالَ أَصْبَحْنَا يَوْمًا وَنِسَاءُ النَّبِيِّ آپس میں ذکر کیا تو انہوں نے کہا: حضرت ابن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِينَ عِنْدَ عباس نے ہم سے بیان کیا۔کہتے تھے کہ ہم ایک كُلّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ أَهْلُهَا فَخَرَجْتُ إِلَى روز صبح کو اُٹھے، دیکھتے کیا ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج رو رہی ہیں۔اُن میں سے ہر الْمَسْجِدِ فَإِذَا هُوَ مَلْآنُ مِنَ النَّاسِ ایک زوجہ کے پاس اُن کے رشتہ دار ہیں۔میں فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَصَعِدَ إِلَى مسجد آیا تو دیکھا کہ وہ لوگوں سے بھری ہے۔النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي اتنے میں حضرت عمر بن خطاب آئے اور نبی غُرْفَةٍ لَهُ فَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبُهُ أَحَدٌ ثُمَّ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اوپر چڑھ کر گئے سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ اُس وقت آپ اپنے ایک بالا خانہ میں تھے۔يُجِبْهُ أَحَدٌ فَنَادَاهُ فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ اُنہوں نے آپ کو سلام کیا مگر اُن کو کسی نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَطَلَّقْتَ جواب نہ دیا۔پھر اُنہوں نے سلام کیا۔پھر بھی نِسَاءَكَ؟ فَقَالَ لَا وَلَكِنْ آلَيْتُ مِنْهُنَّ کسی نے جواب نہ دیا۔پھر انہوں نے سلام کیا۔شَهْرًا فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ پھر بھی کسی نے جواب نہیں دیا۔پھر اس کے بعد دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ۔آپ نے اُن کو بلوایا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور پوچھا: کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ میں نے اُن سے قسم کھائی ہے کہ ایک مہینہ تک اُن کے پاس نہیں جاؤں گا۔اس لئے آپ انتیس دن تک ٹھہرے۔پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس گئے۔