صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 135
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۳۵ ۶۷ - كتاب النكاح تَابَعَهُ أَيُّوبُ وَسَلْمُ بْنُ زَدِيرٍ۔ہی دیکھے اور میں نے دوزخ میں جھانکا تو اس کے رہنے والوں میں اکثر عورتیں ہی دیکھیں۔(عوف أطرافه: ٣٢٤١، ٦٤٤٩، ٦٥٤٦ - کی طرح) ایوب سختیانی اور سلم بن زریر نے بھی یہی روایت بیان کی۔تشریح: كُفْرانُ الْعَشِیر: شیر کی ناشکر گزاری کرنا۔اسلام اعتدال اور توازن کی تعلیم دیتا ہے مرد عورت کے تعلق میں فرماتا ہے : لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةً وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمُ (البقرة : ۲۲۹) اور جس طرح ان (عورتوں) پر کچھ ذمہ داریاں ہیں (ویسے ہی ) مطابق دستور انہیں بھی (کچھ حقوق حاصل ہیں۔ہاں مگر مردوں کو ان پر ایک طرح کی فوقیت حاصل ہے اور اللہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔میاں بیوی کے جھگڑوں میں بسا اوقات یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کا حق ادا نہیں کرتا مگر اپنا حق لینے پر مُصر ہوتا ہے۔فی زمانہ مغربی اقوام میں بالخصوص اور ان کی تقلید میں دنیا کا قریباً ہر معاشرہ اس مسئلہ کا شکار ہے اور حقوق کا مطالبہ کرنے والی یہ عورتیں اپنے تو حقوق مانگتی ہیں مگر خاوند کے حقوق کو اپنی آزادی کے خلاف قرار دے کر ادا کرنے سے انکاری ہوتی ہیں۔جن سے باہم کشیدگی، نفرت اور لڑائی جھگڑا بالآخر علیحدگی پر منتج ہوتا ہے۔اسلام نے عورت کو اس حوالہ سے بطورِ خاص تنبیہہ کی ہے۔باب نمبر ۸۸،۸۷،۸۵ کی مذکورہ احادیث میں اس حوالہ سے بیوی کو بڑا سخت انذار کیا گیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: عورتوں میں ایک خراب عادت یہ بھی ہے کہ وہ بات بات میں مردوں کی نافرمانی کرتی ہیں۔اور ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال خرچ کر دیتی ہیں اور ناراض ہونے کی حالت میں بہت کچھ برابھلا ان کے حق میں کہہ دیتی ہیں۔ایسی عورتیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک لعنتی ہیں۔ان کا نماز روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں۔اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہو سکتی جب تک پوری پوری خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے اس کی تعظیم نہ بجالائے۔اور پس پشت اس کے لیے اس کی خیر خواہ نہ ہو۔اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے مردوں کی تابعدار رہیں۔ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں۔اور نیز فرمایا ہے کہ اگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔اگر کوئی عورت اپنے خاوند