صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 136
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۳۶ ۶۷ - كتاب النكاح (لمفوظات جلد ۵ صفحه ۴۸،۴۷) کے حق میں کچھ بد زبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکم ربانی سن کر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے۔خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔“ نیز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: عورتوں میں بت پرستی کی جڑ ہے کیونکہ ان کی طبائع کا میلان زینت پرستی کی طرف ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بت پرستی کی ابتدا انہی سے ہوئی ہے بزدلی کا مادہ بھی ان میں زیادہ ہوتا ہے کہ ذرا سی سختی پر اپنے جیسی مخلوق کے آگے ہاتھ جوڑنے لگ جاتی ہے اس لیے جو لوگ زن پرست ہوتے ہیں رفتہ رفتہ ان میں بھی یہ عادتیں سرایت کر جاتی ہیں۔پس بہت ضروری ہے کہ ان کی اصلاح کی طرف متوجہ رہو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے الرجال قوامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء: ۳۵) اور اسی لیے مرد کو عورتوں کی نسبت قومی زیادہ دیئے گئے ہیں۔اس وقت جو نئی روشنی کے لوگ مساوات پر زور دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کے حقوق مسادی ہیں ان کی عقلوں پر تعجب آتا ہے وہ ذرامر دوں کی جگہ عورتوں کی فوجیں بنا کر جنگوں میں بھیج کر دیکھیں تو سہی کہ کیا نتیجہ مساوی نکلتا ہے یا مختلف؟ ایک طرف تو اسے حمل ہے اور ایک طرف جنگ ہے وہ کیا کر سکے گی۔غرض کہ عورتوں میں مردوں کی نسبت قوی کمزور ہیں اور کم بھی ہیں اس لیے مرد کو چاہیے کہ عورت کو اپنے ماتحت رکھے۔“(ملفوظات، جلد ۲ صفحہ ۱۰۴) نیز فرمایا: عورتوں کے لیے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ اپنے خاوندوں کی اطاعت کریں گی تو خدا ان کو ہر ایک بلا سے بچائے گا۔اور ان کی اولاد عمر والی ہو گی اور نیک بخت ہو گی۔(مکتوبات احمد ، مکتوب نمبر ۸۳، جلد ۳ صفحه ۲۴۷) باب ۸۹: لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے قَالَهُ أَبُو جُحَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اس کو حضرت ابو جحیفہ (وہب بن عبد اللہ ) نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔