صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 132 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 132

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۳۲ ۶۷ - كتاب النكاح عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابو عثمان (نہدی) سے، اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُمْتُ عَلَى ابو عثمان نے حضرت اسامہ بن زید) سے حضرت بَابِ الْجَنَّةِ فَكَانَ عَامَّةَ مَنْ اُسامہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ وَأَصْحَابُ الْجَدِّ آپؐ نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑا مَحْبُوسُونَ غَيْرَ أَنَّ أَصْحَابَ النَّارِ ہوا تو مسکین ہی اکثر وہ لوگ تھے جو اس میں داخل قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ وَقُمْتُ عَلَى ہوئے اور بختاور روک دیئے گئے مگر جو آگ کے بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا حق تھے انہیں آگ کی طرف لے جانے کا حکم دیا گیا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اکثر جو اس میں داخل ہوئے ہیں النِّسَاءُ۔ عورتیں ہی ہیں۔ طرفه: ٦٥٤٧- بَاب ۸۸: كُفْرَانُ الْعَشِيرِ خاوند کی ناشکر گزاری کرنا وَهُوَ الزَّوْجُ وَهُوَ الْخَلِيطُ مِنَ عشیر سے مراد خاوند بھی ہے اور شریک بھی ہے۔ الْمُعَاشَرَةِ، فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ یہ معاشرت سے نکلا ہے (یعنی اکٹھے زندگی بسر النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ کرنا) اس کے متعلق حضرت ابوسعید خدری) سے روایت ہے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ٥١٩٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۱۹۷ : عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زید عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بن اسلم سے ، زید نے عطاء بن یسار سے ، عطاء نے عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت کی۔ اُنہوں