صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 129 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 129

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۲۹ ۶۷ - كتاب النكاح نیز فرمایا: قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ اگر مرد اپنی عورت کو مروت اور احسان کی رُو سے ایک پہاڑ سونے کا بھی دے تو طلاق کی حالت میں واپس نہ لے۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام میں عورتوں کی کس قدر عزت کی گئی ہے ایک طور سے تو مردوں کو عورتوں کا نوکر ٹھہرایا گیا ہے اور بہر حال مردوں کے لئے قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ عاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ یعنی تم اپنی عورتوں سے ایسے حسن سلوک سے معاشرت کرو کہ ہر ایک عقلمند معلوم کر سکے کہ تم اپنی بیوی سے احسان اور مرقت سے پیش آتے ہو۔علاوہ اس کے شریعت اسلام نے صرف مرد کے ہاتھ میں ہی یہ اختیار نہیں رکھا کہ جب کوئی خرابی دیکھے یا ناموافقت پاوے تو عورت کو طلاق دے دے بلکہ عورت کو بھی یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بذریعہ حاکم وقت کے طلاق لے لے۔اور جب عورت بذریعہ حاکم کے طلاق لیتی ہے تو اسلامی اصطلاح میں اس م خلع ہے۔جب عورت مرد کو ظالم پاوے یاوہ اُس کو ناحق مارتا ہو یا اور طرح سے ناقابل برداشت بدسلوکی کرتا ہو یا کسی اور وجہ سے ناموافقت ہو یا وہ مرد در اصل نامرد ہو یا تبدیل مذہب کرے یا ایسا ہی کوئی اور سبب پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے عورت کو اُس کے گھر میں آباد رہنا نا گوار ہو تو ان تمام حالتوں میں عورت یا اُس کے کسی ولی کو چاہئے کہ حاکم وقت کے پاس یہ شکایت کرے اور حاکم وقت پر یہ لازم ہو گا کہ اگر عورت کی شکایت واقعی درست سمجھے تو اس عورت کو اس مرد سے اپنے حکم سے علیحدہ کر دے اور نکاح کو توڑ دے لیکن اس حالت میں اس مرد کو بھی عدالت میں بلانا ضروری ہو گا کہ کیوں نہ اس کی عورت کو اُس سے علیحدہ کیا جائے۔“ (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۸۹،۲۸۸) بَاب ٨٤: صَوْمُ الْمَرْأَةِ بِإِذْنِ زَوْجِهَا تَطَوُّعًا عورت کا اپنے خاوند کی اجازت سے نفلی روزہ رکھنا کا نام ٥١٩٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل :۵۱۹۲ محمد بن مقاتل (مروزی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ کیا کہ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں بتایا کہ معمر