صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 128
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۲۸ ۶۷ - كتاب النكاح فَقَالَ الشَّهْرُ تِسْع وَعِشْرُونَ لَيْلَةً تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں فَكَانَ ذَلِكَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ گا، جب اللہ عز و جل نے آپ کو تنبیہ کی تھی۔لَيْلَةً قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ جب انیس راتیں گزرگئیں تو آپ عائشہ کے پاس تَعَالَى آيَةَ التَّخَيْرِ فَبَدَأَ بِي أَوَّلَ امْرَأَةِ آئے اور اُن سے باری شروع کی۔عائشہ نے کہا: مِنْ نِسَائِهِ فَاخْتَرْتُهُ ثُمَّ خَيْرَ نِسَاءَهُ يا رسول اللہ ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپ ہمارے پاس مہینہ بھر نہیں آئیں گے، آپ کو تو كُلَّهُنَّ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ۔آج صبح صرف انیس راتیں ہوئی ہیں۔میں تو ان کو ایک ایک کر سکے گفتی رہی ہوں۔آپ نے فرمایا: مہینہ انیس رات کا بھی ہوتا ہے اور وہ مہینہ انیس رات کا ہی تھا۔حضرت عائشہ بیان کرتی تھیں: پھر اللہ تعالیٰ نے آیت تخییر نازل کی تو آپ کی ازواج میں سے پہلی عورت میں ہی تھی جس سے آپ نے شروع کیا۔میں نے آپ کو اختیار کیا۔پھر اس کے بعد آپ نے اپنی تمام ازواج کو اختیار دیا اور اُنہوں نے بھی ویسے ہی کہا جو عائشہ نے کہا تھا۔أطرافه ،۸۹ ،٢٤٦٨ ، ٤٩١٣، ٤٩١٤، ٤٩١٥ ،٥۲۱۸، ٥٨٤، ٧٢٥٦ ٧٢٦٣۔يح: المُدَارَ اةُ مَعَ النِّسَاء: عورتوں کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آنا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی کرو۔اور حدیث میں ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔اُن کے لئے دُعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو کیونکہ نہایت بد، خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندہ برتن کی طرح جلد مت توڑو۔“ ( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد۱۷، حاشیہ صفحہ ۷۵)