صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 127 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 127

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۲۷ ۶۷ - كتاب النكاح تَبَسُّمَةً أُخْرَى فَجَلَسْتُ حِينَ رَأَيْتُهُ عورتیں دباؤ رکھتی ہیں۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تَبَسَّمَ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فِي بَيْتِهِ مِسکرائے پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا يَرُدُّ دیکھتے میں حفصہ کے پاس گیا اور میں نے اس سے الْبَصَرَ غَيْرَ أَهَبَةٍ ثَلَاثَةٍ فَقُلْتُ يَا کہا: تجھے یہ بات دھوکانہ دے کہ تمہاری ہمسائی تم رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللهَ فَلْيُوَسِعْ عَلَی سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو أُمَّتِكَ فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِعَ زیادہ پیاری ہے۔ ان کی مراد حضرت عائشہ سے عَلَيْهِمْ وَأَعْطُوا الدُّنْيَا وَهُمْ لَا ھی۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور دفعہ يَعْبُدُونَ اللهَ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ مسکرائے۔ جب میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ مسکرائے ہیں تو میں بیٹھ گیا۔ میں نے نگاہ اٹھا کر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِنًا فَقَالَ أَوَفِي هَذَا أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّ آپ کے گھر کو دیکھا تواللہ کی قسم میں نے آپ کے گھر میں کوئی ایسی چیز نہ دیکھی جو نگاہ کو بھائی سوائے أُولَئِكَ قَوْمٌ قَدْ عُجِلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِی تین کچی کھالوں گے۔ میں نے عرض کی: یارسول الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللہ ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپؐ کی اُمت کو اسْتَغْفِرْ لِي۔ فَاعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ کشائش دے۔ کیونکہ فارس اور روم کو بہت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ کشائش دی گئی ہے اور ان کشائش دی گئی ہے اور انہیں دنیا ملی ہے حالانکہ وہ الْحَدِيثِ حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَكَانَ علیہ وسلم اُٹھ بیٹھے اور آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ قَالَ مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ آپ نے فرمایا: ابن خطاب کیا تم اس دھن میں ہو۔ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِينَ عَاتَبَهُ اللهُ یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں اُن کی عمدہ چیزیں اسی دنیا عَزَّ وَ جَلَّ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْع کی زندگی میں جلدی سے دے دی گئی ہیں۔ میں وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میرے لئے مغفرت کی فَبَدَأَ بِهَا فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ دعا کریں۔ غرض نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج اللهِ إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا سے اس بات کی وجہ سے انیس راتیں الگ رہے تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّمَا أَصْبَحْتَ تھے، جب حفصہ نے عائشہ سے اسے افشا کر دیا مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّا تھا۔ آپ نے ان پر سخت ناراضگی کی وجہ سے یہ کہا