صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 125 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 125

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۲۵ ۶۷ - كتاب النكاح عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ الله علیہ وسلم اپنے ایک بالا خانہ میں چلے گئے اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْرُبَةٌ لَهُ فَاعْتَزَلَ فِيهَا اس میں جا کر الگ بیٹھے رہے۔میں حفصہ کے پاس وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ گیا۔کیا دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔میں نے کہا: اب تَبْكِي فَقُلْتُ مَا يُبْكِيكِ أَلَمْ أَكُنْ روتی کیوں ہو ؟ کیا میں نے تمہیں پہلے سے اس حَدَّرْتُكِ هَذَا أَطَلَّقَكُنَّ النَّبِيُّ صَلَّی سے چوکس نہیں کر دیا تھا؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ لَا أَدْرِي هَا نے تمہیں طلاق دے دی ہے ؟ وہ کہنے لگیں: میں هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي الْمَشْرُبَةِ فَخَرَجْتُ نہیں جانتی۔وہ بالا خانہ میں الگ بیٹھے ہوئے ہیں۔فَجِئْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطُ میں وہاں سے نکل کر منبر کے پاس آیا تو کیا دیکھا اس کے ارد گرد کچھ لوگ بیٹھے ہیں اُن میں سے يَبْكِي بَعْضُهُمْ فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ بعض رو ر ہے ہیں۔میں اُن کے ساتھ تھوڑی دیر بیٹھا۔پھر جو تکلیف میں محسوس کر رہا تھا اس نے الَّتِي فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ اسْتَأْذِنَ مجھے بے تاب کر دیا۔میں اس بالا خانہ کے پاس آیا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔میں نے آپ لِعُمَرَ فَدَخَلَ الْغُلَامُ فَكَلَّمَ النَّبِيِّ کے حبشی غلام سے کہا: عمر کے لئے اجازت مانگو۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ غلام اندر گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے كَلَّمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بات کی۔پھر وہ لوٹ آیا، کہنے لگا: میں نے نبی صلی وَذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْصَرَفْتُ حَتَّى الله علیہ وسلم سے کہا تھا اور حضور سے آپ کا ذکر جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ گیا تھا، حضور خاموش رہے۔میں یہ سن کر مڑ گیا اور الْمِنْبَرِ۔ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ آکر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ تھے۔پھر اس غم نے جو میں محسوس کر رہا تھا مجھے ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ بے قرار کر دیا اور پھر میں آیا اور غلام سے کہا: عمر فَصَمَتَ فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ کے لئے اجازت مانگو۔وہ اندر گیا اور لوٹ آیا کہنے الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِي لگا: میں نے حضور سے آپ کا ذکر کیا تھا وہ مَا أَجِدُ فَجِئْتُ الْغُلَامَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنَ خاموش رہے۔یہ سن کر میں واپس لوٹ آیا اور