صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 124 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 124

صحیح البخاری جلد ۱۳ الله له ۶۷ - كتاب النكاح وَكُنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ آپ کو جواب دیا کرو اور نہ آپ سے الگ رہو اور الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا فَنَزَلَ صَاحِبِي جو تمہیں ضرورت ہو مجھ سے مانگو اور یہ بات جو ہو سے مانگو یہ بات الْأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ فَرَجَعَ إِلَيْنَا تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے کہ تمہاری ہمسائی تم عِشَاءً فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَقَالَ أَتَمَّ هُوَ ؟ فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ کو زیادہ پیاری۔ ان کی مراد حضرت عائشہ سے إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ حَدَثَ الْيَوْمَ أَمْرٌ عَظِيمٌ تھی۔ حضرت عمر کہتے تھے اور اُن دنوں ہمارے قُلْتُ مَا هُوَ أَجَاءَ غَسَّانُ؟ قَالَ لَا درمیان یہ باتیں ہورہی تھیں کہ عنسان کا قبیلہ ہم پر حملہ کرنے کے لئے اپنے گھوڑوں کی نعل بندی بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَهْوَلُ۔ طَلَّقَ کر رہا ہے۔ میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ۔ مدینہ گیا اور کہیں عشاء کے وقت ہمارے پاس لوٹ کر آیا۔ اس نے میرے دروازے کو زور سے کھٹکھٹایا اور پوچھا: کیا وہ یہی ہیں؟ میں اس سے گھبرایا اور اس کے پاس باہر آیا۔ وہ کہنے لگا: آج بہت ہی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے ؟ کیا غسان آگئے ؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اور زیادہ ہولناک۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ سَمِعَ ابْنَ اور عبید بن حسین نے کہا: حضرت ابن عباس نے عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ فَقَالَ اعْتَزَلَ النَّبِيُّ حضرت عمرؓ سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا: نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ علیہ وسلم اپنی ازواج سے الگ ہو گئے ہیں۔ میں نے فَقُلْتُ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ کہا: حفصہ تباہ ہو گئی اور گھاٹے میں رہی۔ میں تو وَقَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا يُوشِكُ أَنْ سمجھ گیا تھا کہ یہ عنقریب ہو کر رہے گا۔ میں نے يَكُونَ۔ فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَصَلَّيْتُ اپنے اوپر کے) کپڑے پہنے اور جاکر صبح کی نماز صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ في صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی اور نبی صلی اللہ