صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 123
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۳۳ ۶۷ - كتاب النكاح نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ نئی بات وحی وغیرہ سے ہوتی اس کی خبر میں اس أَدَبِ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ۔ فَصَخِبْتُ عَلَى کے پاس لاتا اور جب وہ جاتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي فَأَنْكَرْتُ أَنْ اور ہم قریش کے لوگ عورتوں کو دبا کر رکھتے تُرَاجِعَنِي قَالَتْ وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ تھے اور جب ہم انصار کے پاس آئے تو کیا دیکھتے أَرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی ہیں کہ اُن کی عورتیں اُن کو دبا کر رکھتی رھتی ہیں۔ اُن اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَإِنَّ کے دیکھا دیکھی ہماری عورتیں بھی انصار کی عورتوں کا وتیرہ اختیار کرنے لگیں۔ میں نے اپنی بیوی کو إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ۔ ڈانٹاڈ پٹا اس نے مجھے جواب دیا میں نے اس کو بُرا فَأَفْزَعَنِي ذَلِكَ فَقُلْتُ لَهَا قَدْ خَابَ منایا کہ وہ مجھے جو اب دے۔ وہ بولی میں جو تمہیں مَنْ فَعَلَ ذَلِكِ مِنْهُنَّ۔ ثُمَّ جَمَعْتُ جواب دوں تو برا کیوں مناتے ہو۔ اللہ کی قسم ! نبی عَلَيَّ ثِيَابِي فَنَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى صلى اللہ علیہ وسلم کی ازواج تو اُن کو جواب دیتی ہیں حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَيْ حَفْصَةُ اور اُن میں سے کوئی تو آپ سے سارا دن رات أَتُغَاضِبُ إِحْدَاكُنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ تک الگ رہتی ہے۔ اس بات نے مجھے گھبر ادیا اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ قَالَتْ میں نے اپنی بیوی سے کہا: ان عورتوں میں سے نَعَمْ فَقُلْتُ قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ جس نے ایسا کیا وہ تو گھاٹے میں رہی۔ میں أَفَتَأْمَنِينَ أَنْ يَغْضَبَ اللهُ لِغَضَبِ نے (جلدی سے) اپنے پورے کپڑے پہنے اور رَسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں مدینہ اتر کر حفصہ کے پاس گیا۔ میں نے اس رم سے کہا: حفصہ ! کیا تم میں سے کوئی نبی صلی اللہ علیہ فَتَهْلِكِي؟ لَا تَسْتَكْثِرِي النَّبِيَّ صَلَّى وسلم کو سارا دن، رات تک ناراض رکھتی ہے ؟ اس اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُرَاجِعِيهِ فِي نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: تم تو تباہ ہوئی اور گھاٹے شَيْءٍ وَلَا تَهْجُرِيهِ وَسَلِينِي مَا بَدَا میں رہی۔ کیا تم اس سے مطمئن ہو کہ رسول اللہ صلی لَكِ وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ الله علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ ا ناراضگی کی وجہ سے اللہ ناراض ہو أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى گا اور تم ہلاک نہ ہو جاؤ گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ۔ قَالَ عُمَرُ سے بہت مطالبے نہ کیا کرو اور نہ ہی کسی بات میں