صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 122 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 122

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۲۲ ۶۷ - كتاب النكاح النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ رہی کہ میں حضرت عمر بن خطاب سے نبی صلی اللہ قَالَ اللهُ تَعَالَى إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ فَقَدْ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے اُن دو ازواج کے متعلق صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ( التحريم : ٥) حَتَّى پوچھوں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ حَجَّ وَحَجَجْتُ مَعَهُ وَعَدَلَ وَعَدَلْتُ یعنی اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ جھکو تو یہی زیبا ہے کیونکہ ) تم دونوں کے دل مائل عَلَى يَدَيْهِ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَهُ يَا ہو چکے تھے۔ انہوں نے حج کیا اور میں بھی مجھ کو گیا۔ وہ راستہ سے ہٹ کر ایک طرف گئے، میں بھی أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ چھاگل لے کر اس طرف گیا۔ وہ قضاء حاجت سے أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فارغ ہو کر آئے اور میں نے اس (چھا گل) سے اللَّتَانِ قَالَ اللهُ تَعَالَى إِنْ تَتُوبَا إِلَى اُن کے ہاتھوں پر پانی ڈالا او پانی ڈالا اور وہ وضو کرنے لگے۔ اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا (التحریم : ٥) میں نے کہا: امیر المومن المؤمنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ هُمَا کی بیویوں میں - بیویوں میں سے وہ دو عورتیں کون ؟ کون ہیں جن کے عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یعنی اگر تم دونوں الْحَدِيثَ يَسُوقُهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تو یہی زیبا لِي مِنَ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ ہے کیونکہ ) تم دونوں کے دل مائل ہو چکے تھے۔ وَهُمْ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكُنَّا انہوں نے کہا: ابن عباس تم پر تعجب ہے ( یہ بھی نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ معلوم نہیں۔ وہ عائشہ اور حفصہ ہیں۔ یہ کہہ کر حضرت عمر وہ سارا واقعہ مسلسل بیان کرنے لگے۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا اُنہوں نے کہا: میں اور میرا ایک انصاری ہمسایہ فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِمَا حَدَثَ مِنْ خَبَرِ بنی امیہ بن زید میں رہتے تھے اور یہ لوگ مدینہ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ أَوْ غَيْرِهِ وَإِذَا کے آس پاس کے بالائی مقامات میں رہا کرتے نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَكُنَّا مَعْشَرَ تھے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ فَلَمَّا قَدِمْنَا باری باری سے جایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ جاتا عَلَى الْأَنْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ اور ایک دن میں جاتا۔ جب میں جاتا تو اس دن جو