صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 121 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 121

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۲۱ ۶۷ - كتاب النكاح قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ ہمارے گھر کو آشیانہ نہیں بناتی۔ابو عبد اللہ (امام فَأَتَقَمَّحُ بِالْمِيمِ وَهَذَا أَصَحُ۔بخاری) نے کہا: اور بعض راویوں نے أَتَفَنَّحُ کو أَتَفَمَّحُ بیان کیا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔٥۱۹۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۵۱۹۰: عبد الله بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ انہوں نے زہری سے ، زہری نے عروہ سے ، عروہ كَانَ الْحَبَسُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔انہوں نے فَسَتَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بیان کیا کہ حبشی لوگ اپنے بھالوں سے کھیلا کرتے وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْظُرُ فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ حَتَّى تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی آڑ كُنْتُ أَنَا أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ میں لیتے اور میں (کھیل) دیکھتی اور میں دیکھتی الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ تَسْمَعُ اللَّهْوَ۔رہتی یہاں تک کہ میں خود ہی لوٹ جاتی۔اب تم خود ہی اندازہ کر لو کہ کم سن لڑکی جو کھیل کو د کو دیکھ سن رہی ہو، کتنی دیر دیکھتی رہتی تھی۔أطرافه ٤٥٤ ،۰۰، ۹۵۰، ۱۹۸۸ ٢٩۰۶، ٣٥٢٩، ٥٢٣٦۔بَاب ۸۳: مَوْعِظَةُ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ لِحَالِ زَوْجِهَا آدمی کا اپنی بیٹی کو اس کے خاوند کی حالت کو مد نظر رکھ کر نصیحت کرنا ٥١٩١ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۵۱۹۱ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي بن ابي حمزہ ) نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے زہری عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ثَوْرِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: مجھے عبید اللہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ بن عبد اللہ بن ابی ثور نے خبر دی۔انہوں نے لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ حضرت عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ روایت کی۔اُنہوں نے کہا: مجھے ہمیشہ یہ خواہش