صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 119 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 119

صحیح البخاری جلد ۱۳ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ۔۱۱۹ ۶۷ - كتاب النكاح ہر مشورہ سے اس کا گھر نزدیک ہے۔دسویں نے کہا: میرا خاوند مالک ہے اور مالک بھی کیسا اچھا مالک، اس کے اتنے اونٹ ہیں کہ اُن کے بیٹھنے کی جگہیں بے شمار ہیں چرنے کو کم نکلتے ہیں اور جو نہی باجے کی آواز سنی، انہیں یقین ہو گیا کہ اب وہ نہیں رہیں گے۔قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ گیارہویں نے کہا: میرا خاوند ابوزرع ہے اور ابو زرع فَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِي أُذُنَيٌّ بھی کیا۔میرے دونوں کان ہر قسم کے زیور سے جھلا وَمَلَأَ مِنْ شَحْم عَضُدَيَّ وَبَجْحَنِي دیے اور میرے دونوں بازو چربی سے بھر دیئے فَبَجِحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي اور مجھے بڑا بنادیا اور میرا نفس بھی مجھے دیکھ کر فخر أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقِّ فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ کرنے لگا۔اس نے مجھے ایسے لوگوں میں پایا کہ جن صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍ فَعِنْدَهُ کی تھوڑی سی بکریاں تھیں، نہایت جنگی میں تھے اور پھر اُس نے مجھے ایسے لوگوں میں کر دیا کہ جو گھوڑوں، أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ۔أُمُّ أَبِي زَرْعٍ فَمَا اونٹوں اور کھیتوں والے ہیں اور جن کے پاس لوگ ہر وقت آتے جاتے ہیں۔پھر اس کے أُمَّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا سامنے میں کچھ کہتی ہوں تو مجھ پر بُرا نہیں منایا فَسَاحٌ ابْنُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ جاتا۔اور اگر میں سوتی رہوں تو صبح ہی کو جاگتی مَرْجِعُهُ كَمَسَلَ شَطْبَةٍ وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ ہوں اور پیتی ہوں تو عمدہ پیتی ہوں۔ابوزرع کی الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِنْتُ أَبِي ماں کیا بتاؤں کہ ابوزرع کی ماں کیسی ہے۔اس کی زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمَهَا وَمِلْءُ گٹھڑیاں بھاری بھر پور، اس کا گھر اچھا کشادہ۔كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا۔جَارِيَةُ أَبِي ابوزرع کا بیٹا، کیا بتاؤں ابوزرع کا بیٹا کیسا ہے۔زَرْعٍ فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُ اس کے سونے کی جگہ ایسی ہے جیسے تلوار کا حَدِيثَنَا تَبْشِيفًا وَلَا تُنَقِّتُ مِيرَتَنَا تَنْقِيئًا پھل اور بکری کے بچے کا پایہ اُسے سیر کر دے۔وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا قَالَتْ خَرَجَ ابوزرع کی لڑکی، کیا بتاؤں کہ ابوزرع کی بیٹی کیسی