صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 118
صحیح البخاری جلد ۱۳ IIA ۶۷ - كتاب النكاح أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَيُجَرَهُ۔قَالَتِ الثَّالِثَةُ اس کا راز افشا نہیں کروں گی۔میں ڈرتی ہوں کہ زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقُ أَطَلَّقْ وَإِنْ سب بيان نہ کر سکوں گی۔اگر اس کا ذکر کروں تو پھر أَسْكُتْ أُعَلَّقْ۔قَالَتِ الرَّابِعَةُ زَوْجِي اس کے سب کھلے چھپے عیب بیان کروں۔تیسری كَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرِّ وَلَا قُرِّ وَلَا نے کہا: میرا خاوند لم دھڑنگ ہے اگر کچھ بولوں تو مَخَافَةَ وَلَا سَامَةَ۔قَالَتِ الْخَامِسَةُ مجھے طلاق دے دی جائے اور اگر خاموش رہوں زَوْجِي إِذَا دَخَلَ فَهِدَ وَإِنْ خَرَجَ تو لٹکی رہوں۔چوتھی نے کہا: میرا خاوند تہامہ کی أَسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ قَالَتِ رات جیسا ہے نہ گرمی ہے نہ سردی نہ ڈر ہے اور السَّادِسَةُ زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ وَإِنْ نہ اکتانا۔پانچویں نے کہا: میرا خاوند اگر (گھر میں) شَرِبَ اشْتَفَّ وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ آئے تو ایک چیتا ہے اگر باہر جائے تو شیر ہے اور وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ۔قَالَتِ جو چیز سپر د کر دی اس کے متعلق پوچھتا ہی نہیں۔السَّابِعَةَ زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ چھٹی نے کہا: میرا خاوند اگر کھانے بیٹھے تو سبھی طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ چٹ کر جائے اور اگر پینے لگے تو سبھی نکل جائے أَوْفَنَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلَّا لَكِ۔قَالَتِ اور اگر لیٹے تو الگ تھلگ لیٹے اور ہاتھ نہ ڈالے کہ النَّامِنَةُ زَوْجِي الْمَسُ مَس أَرْنَبٍ پریشانی کو معلوم کرے۔ساتویں نے کہا: میرا خاوند وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ۔قَالَتِ التَّاسِعَةُ جاہل مطلق ہے یا کہا کہ ناکارہ ہے۔سینے سے لگا کر زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ اوندھا پڑ جائے۔ہر ایک بیماری اسی کی بیماری ہے۔عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ۔تمہارا سر پھوڑ ڈالے یا تمہارا ہاتھ توڑ ڈالے یا تم قَالَتِ الْعَاشِرَةُ زَوْجِي مَالِكٌ وَمَا سے دونوں ہی کرے۔آٹھویں نے کہا: میرا خاوند مَالِكٌ، مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكِ لَهُ إِبِلٌ چھو تو جیسے خرگوش کو چھوا اور خوشبو جیسے زعفران كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ کی خوشبو۔نویں نے کہا: میرا خاوندگھر کا اونچا، تلوار وَإِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ کے لیے پر تلا والا ، راکھ کے ڈھیروں ڈھیر والا، فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق اس جگہ لفظ ”ان“ ہے۔(فتح الباری جزء ۹ حاشیہ صفحہ ۳۱۶) ے پر تلا : بیٹی جو تلوار لٹکانے کے لیے کندھے پر ڈالتے ہیں۔(فیروز اللغات )