صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 114 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 114

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۱۴ ۶۷ - كتاب النكاح سے زیادہ قابل نفرت دعوت وہ دعوت ہے جس میں صرف امیر بلائے جائیں اور غریبوں کو نہ بلایا جائے اور جو شخص کسی بھائی کی دعوت کا انکار کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔اس مبارک ارشاد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو سخت ناپسند فرمایا ہے کہ امیر لوگ اپنی دعوتوں وغیرہ میں صرف امیروں کو مدعو کریں اور غریبوں کو گویا کوئی اور جنس خیال کرتے ہوئے بھول جائیں۔اور دراصل مساوات کی روح زیادہ تر تمدنی معاملات میں ہی بگڑنی شروع ہوتی ہے۔کیونکہ اس قسم کے تمدنی معاملات کا اثر براہ راست دل پر پڑتا ہے۔اسی طرح آپ نے یہ تاکید بھی فرمائی ہے کہ اگر کوئی غریب کسی امیر کی دعوت کرے تو امیر کے لئے ہرگز مناسب نہیں کہ وہ اپنی امارت کے گھمنڈ میں آکر یا یہ خیال کر کے کہ غریب کے ہاں کا کھانا اس کی عادت اور مزاج کے مطابق نہیں ہو گا غریب کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دے۔چنانچہ اس قسم کی دعوتوں کا رستہ کھولنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لَوْ دُعِيْتُ إِلى كُرَاعٍ لَا جَبْتُ یعنی اگر کوئی غریب شخص کسی بکری یا بھیڑ کا ایک پایہ پکا کر بھی مجھے دعوت میں بلائے تو میں اس کی دعوت کو ضرور قبول کروں گا۔یاد رہے کہ اس جگہ گراع کے معنی پائے کے نچلے حصہ کے ہیں جو ٹخنوں سے نیچے ہوتا ہے اور یقینا وہ ایک ادنیٰ قسم کی غذا ہے کیونکہ ٹخنوں کے نیچے کا حصہ قریباً گھر ہی بن جاتا ہے، لیکن اگر گراع کے معنی پورے پائے کے بھی سمجھے جائیں تو پھر بھی عربوں کی روایات سے یہ ثابت ہے کہ قدیم زمانہ میں عرب لوگ پائے کو اچھی غذا نہیں سمجھتے تھے۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اپنا ذاتی اسوہ پیش کر کے مسلمانوں کو تحریک فرمائی ہے کہ خواہ دعوت کرنے والا کتنا ہی غریب ہو اس کی دعوت کو غربت کی وجہ سے رد نہ کرو، ورنہ یاد رکھو کہ تمہاری سوسائٹی میں ایسا رخنہ پیدا ہو جائے گا جو آہستہ آہستہ سب کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔“ (سیرت خاتم النبيين على ا و کم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے، صفحہ ۷۸۱،۷۸۰)