صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 113
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۷ - كتاب النكاح وَهِيَ الْعَرُوسُ فَقَالَتْ أَوْ قَالَ أَتَدْرُونَ خدمت کرتی تھیں حالانکہ وہ اس وقت دلہن تھیں۔مَا أَنْقَعَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ یہ کہتی تھیں یا حضرت سہل کہتے تھے : تم جانتے ہو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا شربت تیار کیا؟ اُنہوں نے آپ کے لئے رات اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ۔کو ایک پیالے میں کچھ کھجوریں بھگو رکھی تھیں۔أطرافه ،٥١٧٦، ٥۱۸۲ ٥٥٩١ ٥٥٩٧، ٦٦٨٥- تشریح: الْوَلِيمَةُ حَق : ولیمہ کرناضروری ہے۔باب ۶۷ سے باب ۷۸ تک ولیمہ کے متعلق مختلف امور بیان کیے گئے۔انسان کی زندگی میں خوشی غمی غر ئیسر لازمہ بشر ہیں۔اسلام نے ان تمام مواقع کی مناسبت سے جامع تعلیم دی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاک اسوہ سے اس تعلیم کی عملی سنت قائم کر کے ہمیشہ کے لیے رہنمائی مہیا فرما دی ہے۔شادی بیاہ انسان کی طبعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے قیام کی وہ بنیادی کڑی ہے جس سے نہ صرف دو افراد اپنا گھر بناتے ہیں اور معاشرہ میں ایک نئے یونٹ کا اضافہ ہوتا ہے بلکہ دو خاندان اور رشتوں کی مناسبت سے دراصل کئی خاندان با ہمی رشتوں میں منسلک ہوتے ہیں۔ان مواقع پر رشتہ داروں اور دوست احباب کا ایک دوسرے کی خوشی میں شریک ہونا باہمی محبت اور معاشرتی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے اور ایک اعتبار سے ولیمہ وغیرہ کی دعوت میں شامل ہونے والے تمام لوگ اس شادی کے گواہ بن جاتے ہیں جو اس رشتہ کی مضبوطی اور بہتری کا باعث بنتے ہیں۔میاں بیوی کے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد اگلے دن یا سات دن تک ولیمہ ہو سکتا ہے بلکہ بعض مجبوریوں کی صورت میں یہ دن بڑھائے بھی جاسکتے ہیں جیسا کہ ان ابواب کی روایات میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ایام کی حد بندی نہیں کی اس لیے شادی شدہ جوڑا یا خاندان اپنی خوشی کی اس تقریب کو حسب موقع جب چاہیں کر لیں اور وہ جن عزیز واقارب ، دوست احباب کو دعوت دیں، انہیں اس دعوت میں ضرور شریک ہونا چاہیئے۔إجَابَةُ الداعي في العُرسِ وَغَيْرِهِ : شادی وغیرہ میں دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمدنی تعلقات کے سب سے بڑے ذریعہ اور سب سے بڑے میدان یعنی آپس کی دعوتوں اور کھانے پینے کی ملاقاتوں وغیرہ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ وَمَنْ تَرَكَ اللَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ۔یعنی سب سے بُری اور سب