صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 103 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 103

صحیح البخاری جلد ۱۳ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ عَلَى ۱۰۳۔۶۷ - كتاب النكاح صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالُوا الْمُكْتَ بیٹھے رہے اور دیر تک بیٹھے رہے۔آخر نبی صلی اللہ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عليه وسلم اُٹھ کر باہر چلے گئے اور میں بھی آپ فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَيْ يَخْرُجُوا کے ساتھ گیا تا کہ وہ بھی چلے جائیں۔نبی صلی اللہ فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم چل پڑے اور میں بھی چلا یہاں تک کہ آپ حضرت عائشہ کے حجرے کی دہلیز پر آئے۔وَمَشَيْتُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ پھر آپ نے خیال کیا کہ وہ چلے گئے ہیں اور آپ ( یہ خیال کر کے) لوٹے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹا۔جب حضرت زینب کے پاس اندر زَيْنَبَ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا آئے تو معلوم ہوا کہ ابھی وہ بیٹھے ہوئے ہیں، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اُٹھے نہیں۔یہ معلوم کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ لوٹ گئے اور میں بھی لوٹا۔جب آپ حضرت عَائِشَةَ وَظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعَ عائشہ کے حجرے کی دہلیز پر پہنچے اور خیال کیا کہ وہ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا نکل گئے ہوں گے تو آپ لوٹ آئے اور میں بھی فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ کے ساتھ لوٹا تو کیا دیکھا کہ وہ نکل گئے تھے۔بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ تب نبي صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور حجاب کا حکم نازل کیا گیا۔أطرافه : ٤٧٩١ ٤٧٩٢ ٤٧٩٣، ٤٧٩٤، ٥١٥٤ ٥١٦٣، ٥١٦٨، 5170، 5171، ٥٤٦٦، ٦٢ ٦٢٣٩، ٦٢٧١، ٧٤٢١۳۸ بَاب ٦٨ : الْوَلِيمَةُ وَلَوْ بِشَاةٍ ولیمہ کرنا گو ایک بکری سہی ٥١٦٧ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۵۱۶۷) علی بن عبد اللہ مدینی) نے ہم سے بیان قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اللهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى کہا: حمید (طویل) نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے : نبی صلی اللہ عَوْفٍ وَتَزَوَّجَ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَمْ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے پوچھا رَضِيَ