صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 102
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۰۲ ۶۷ - كتاب النكاح بَاب ٦٧: الْوَلِيمَةُ حَقٌّ ولیمہ کرناضروری ہے وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَالَ لِي اور حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا: مجھ سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ نبي صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو گو ایک بِشَاةٍ۔رَضِيَ بکری سہی۔٥١٦٦: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۵۱۲۶: يحيی بن بگیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ ( بن سعد) نے مجھے بتایا۔انہوں نے عقیل سے، شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكِ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔کہتے تھے: اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا سِنِينَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ أُمَّهَاتِی کے وقت دس برس کے تھے اور میری مائیں مجھے يُوَاظِبْتَنِي عَلَى خِدْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے کے لئے ہمیشہ کہتی رہتی تھیں اور میں نے آپ کی دس سال خدمت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت فوت ہوئے جب میں بیس سال کا تھا اور میں حجاب کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ۔وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةٍ فَكُنْتُ متعلق جب اس کا حکم نازل کیا گیا تمام لوگوں سے أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ زیادہ واقف تھا اور پہلے پہل جو اس کا حکم نازل کیا أُنْزِلَ وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى گیا تو اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت زینب بنت جحش کو اپنے گھر میں لائے۔بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشِ أَصْبَحَ النَّبِيُّ صبح جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے تو آپ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا زینب کے دولہا تھے۔آپ نے لوگوں کو دعوت فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ ثُمَّ دی اور اُنہوں نے کھانا کھایا پھر چلے گئے اور خَرَجُوا وَبَقِيَ رَهْطُ مِنْهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ اُن میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس