صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 85
صحیح البخاری جلد ۱۳ AQ ۶۷- كتاب النكاح طرفه: ٤٠٠١ - وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ۔جانتا ہے کہ کل کیا کچھ ہو گا۔آپ نے فرمایا: اس کو جانے دو اور وہی گاؤ جو پہلے گارہی تھیں۔تشريح : ضَرْبُ الدُّفْي فِي الرِّكَاحِ وَالوليمة: یعنی کان اور ولیمہ کے وقت ڈھوکی وغیرہ بجانا۔سوال کیا گیا کہ لڑکی یا لڑکے والوں کے ہاں جو جو ان عورتیں مل کر گھر میں گاتی ہیں۔وہ کیسا ہے؟ فرمایا: اصل یہ ہے کہ یہ بھی اسی طرح پر ہے۔اگر گیت گندے اور ناپاک نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو لڑکیوں نے مل کر آپ کی تعریف میں گیت گائے تھے۔مسجد میں ایک صحابی نے خوش الحانی سے شعر پڑھے تو حضرت عمر نے ان کو منع کیا۔اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھے ہیں تو آپ نے منع نہیں کیا، بلکہ آپ نے ایک بار اس کے شعر سنے تو آپ نے اس کے لیے "رحمت اللہ " فرمایا۔اور جس کو آپ یہ فرمایا کرتے تھے وہ شہید ہو جایا کرتا تھا۔غرض اس طرح پر اگر فسق و فجور کے گیت نہ ہوں تو منع نہیں۔مگر مردوں کو نہیں چاہیے کہ عورتوں کی ایسی مجلسوں میں بیٹھیں۔یہ یادر کھو کہ جہاں ذرا بھی مظنہ فسق و فجور کا ہو وہ منع ہے۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ انسان خود ان میں فتویٰ لے سکتا ہے جو امر تقویٰ اور خدا کی رضا کے خلاف ہے، مخلوق کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔وہ منع ہے۔اور پھر جو اسراف کرتا ہے، وہ سخت گناہ کرتا ہے۔اگر ریا کاری کرتا ہے ، تو گناہ ہے۔غرض کوئی ایسا امر جس میں اسراف، ریا، فسق، ایذائے خلق کا شائبہ ہو وہ منع ہے اور جو اُن سے صاف ہو وہ منع نہیں، گناہ نہیں۔کیونکہ اصل اشیاء کی حلت ہے۔“ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۳۱۱) بَاب :٤٩: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَأَتُوا النِّسَاءَ صَدُ قُتِهِنَّ نِحْلَةً (النساء:٥) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: تم عورتوں کو اُن کے جو مہر ہیں خوشی سے دو وَكَفْرَةُ الْمَهْرِ وَأَدْنَى مَا يَجُوزُ اور مہر زیادہ دینا یا کم از کم جو مہر ہو سکتا ہے۔اور مِنَ الصَّدَاقِ۔وَقَوْلُهُ تَعَالَى: وَاتَيْتُم اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: وَأَتَيْتُمْ إِحْل بهُنَّ قِنْطَارًا۔