صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 81
صحیح البخاری جلد ۱۳ Al ۶۷ - كتاب النكاح باب ٤٤ إِذَا قَالَ الْخَاطِبُ لِلْوَلِيّ زَوَجْنِي فُلَانَةَ فَقَالَ قَدْ زَوَّجْتُكَ بِكَذَا وَكَذَا جَازَ النِّكَاحُ وَإِنْ لَّمْ يَقُلْ لِلزَّوْجِ أَرَضِيتَ أَوْ قَبِلْتَ اگر نکاح کا پیغام دینے والا سر پرست سے یوں کہے کہ فلاں لڑکی کا نکاح مجھ سے کرو اور وہ یہ کہے: میں نے تم سے فلاں فلاں کے عوض میں نکاح کر دیا تو یہ نکاح جائز ہو گیا۔گو وہ خاوند سے یہ نہ پوچھے کیا تم نے اس کو پسند کر لیا یا قبول کر لیا۔٥١٤١ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا :۵۱۴۱ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو حازم سے، بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد (ساعدی) أَتَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک عورت نبی فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَقَالَ مَا لِي صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے اپنے الْيَوْمَ فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ فَقَالَ میں آپ کے سامنے پیش کیا۔آپ نے فرمایا: ان دنوں تو مجھے عورتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ سن کر ایک شخص بولا: یارسول اللہ ! مجھ سے اس کا نکاح کر دیجئے۔آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ وہ بولا میرے پاس کچھ بھی نہیں۔آپ عِنْدِي شَيْءٌ قَالَ فَمَا عِنْدَكَ مِنَ نے فرمایا: اس کو کچھ دو گو لوہے کی انگوٹھی ہی۔اس الْقُرْآنِ؟ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَقَدْ نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔آپ نے مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ۔فرمایا: تو پھر قرآن سے تمہیں کیا کچھ یاد ہے؟ اس نے کہا: فلاں فلاں سورۃ۔آپؐ نے فرمایا: تو پھر میں نے اُسے تمہارے قبضے میں کر دیا ان سورتوں کے عوض میں جو تمہیں قرآن سے یاد ہیں۔رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوَجْنِيهَا قَالَ مَا عِنْدَكَ؟ قَالَ مَا عِنْدِي شَيْءٌ قَالَ أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِّنْ حَدِيدٍ قَالَ مَا ،5149 ،۱۳۵ ،۵۱۳۲ ،۵۱۲۶ ،۵۱۲۱ CO۔AY CO۔F۔أطرافه ٢۳۱۰، ٥٠٢٩، -٧٤۱۷ ،۵۸۷۱ ،٥١٥٠