صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 80
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۸۰ ۶۷ - كتاب النكاح وَتَرْغَبُونَ اَنْ تَنْكِحُوهُنَّ (النساء: ۱۲۸) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْآيَةِ کے متعلق فتویٰ پوچھا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ مَالٍ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ۔۔وَ تَرْغَبُونَ أَنْ وَجَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا تَنْكِحُوهُنَ۔اس لئے اللہ عزوجل نے اس وَالصَّدَاقِ وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْهَا آیت میں ان کے لئے یہ حکم نازل کیا کہ یتیم لڑکی فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا جب مالدار اور خوبصورت ہو تو وہ اس سے نکاح کرنے اور اس کے رشتہ داروں کے ساتھ تعلق وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ قَالَتْ فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا پیدا کرنے اور مہر دینے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور جب مال اور خوبصورتی کی کمی کی وجہ سے فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يُنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا وہ نا پسندیدہ ہو تو اُس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے فِيهَا إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الْأَوْفَى مِنَ الصَّدَاقِ۔سوا اور عورتیں لے لیتے ہیں۔(حضرت عائشہ) فرماتی تھیں جس طرح وہ اُس کو اُس وقت چھوڑ دیتے ہیں کہ جب وہ اس کی خواہش نہیں رکھتے تو انہیں جائز نہیں کہ وہ اس سے اس وقت نکاح کریں جبکہ وہ اس کے خواہش مند ہوں سوائے اس کے کہ اس کے لئے انصاف کریں اور اس کو اس کا وہ حق دیں جو کہ مہر میں زیادہ سے زیادہ ہے۔أطرافه ٢٤٩٤، ٢٧٦، ٤٥٧، ٤٥٧٤، ٤٦۰۰، ٥٠٦٤، ۰۰۹۲، ۰۰۹۸، ۵۱۲۸، -٥١٣١، ٦٩٦٥ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور وہ تجھ سے عورتوں کے بارہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ اللہ تمہیں ان کے متعلق فتوی دیتا ہے اور (متوجہ کرتا ہے اس طرف) جو تم پر کتاب میں اُن یتیم عورتوں کے متعلق پڑھا جا چکا ہے جن کو تم وہ نہیں دیتے جو اُن کے حق میں فرض کیا گیا حالانکہ خواہش رکھتے ہو کہ اُن سے نکاح کرو۔“