صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 79
صحیح البخاری جلد ۱۳ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ ۷۹ ۶۷ - كتاب النكاح کرتے رہیں۔ پھر (سرپرست) کہے: میں نے تم سے اس کا نکاح کر دیا تو یہ جائز ہے۔ اس کے متعلق حضرت سہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی۔ ٥١٤٠: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۵۱۴۰: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ اللَّيْثُ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي نيز ليث بن سعد) نے کہا کہ مجھے عقیل نے ابن عائشہ نے کہا: میرے بھانجے یہ وہ یتیم لڑکی ہے جو عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ شہاب سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ عروہ بن رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ لَهَا يَا أُمَّتَاهُ زبیر نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت وَإِنْ خِفْتُمُ الَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَثْنَى إِلَى عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔ اُن سے کہا: اماں مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمُ (النساء: ٤) قَالَتْ جان ! وَ إِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَشْى ۔ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ' سے کیا مراد ہے؟ حضرت عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرٍ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا اپنے سر پرست کی پرورش میں ہو اور وہ اس کی وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ صَدَاقِهَا خوبصورتی اور اس کی جائیداد پر للچاتا ہے اور چاہتا فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا ہے کہ اس کو اس کا مہر کم مقرر کرے۔ اس لئے لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا ان کو ایسی یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ قَالَتْ روک دیا گیا سوائے اس کے کہ وہ پورا مہر دے کر عَائِشَةُ اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ ان کے حق میں انصاف کرے۔ اور انہیں ان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم فَأَنْزَلَ اللهُ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ إِلَى دیا گیا ۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: اس کے بعد ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور اگر تم ڈرو کہ تم بتائی کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو دو دو اور تین تین اور چار چار، لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر صرف ایک (کافی ہے ) یا وہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔“