صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 78 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 78

صحیح البخاری جلد ۱۳ ZA ۶۷ - كتاب النكاح ٥١٣٩: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ :۵۱۳۹ اسحاق ( بن منصور ) نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا يَحْيَى أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يزيد (بن) ہارون) نے ہمیں خبر دی کہ یحی بن سعید حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ انصاری) نے ہمیں بتایا۔قاسم بن محمد نے ان سے وَمُجَمَّعَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَجُلًا بیان کیا کہ عبد الرحمن بن یزید اور مجمع بن یزید نے يُدْعَى خِدَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَّهُ۔۔نَحْوَهُ ان کو بتایا کہ ایک شخص جس کو خذائم کر کے پکارتے تھے۔اُس نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا۔پھر انہوں نے ایسی حدیث بیان کی۔أطرافه ٥١٣٨، ٦٩٤٥، ٦٩٦٩- تشریح : لَا يُنْكِحُ الْأَبُ وَغَيْرُهُ الْبِكْرَ وَالطَّيِّبَ إِلَّا بِرِضَاهِمَا: یعنی باپ اور اس کے سوا کوئی دوسرا کنواری یا شیبہ کا نکاح بغیر اس کی رضا مندی کے نہ کرے۔ایک لڑکی کے دو بھائی تھے اور ایک والدہ۔ایک بھائی اور والدہ ایک لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کے نکاح کے لیے راضی تھے۔مگر ایک بھائی مخالف تھا۔وہ اور جگہ رشتہ پسند کرتا تھا اور لڑکی بھی بالغ تھی۔اس کی نسبت مسئلہ دریافت کیا گیا کہ اس کا نکاح کہاں کیا جاوے۔حضرت اقدس علیہ اسلام نے دریافت کیا کہ لڑکی کس بھائی کی رائے سے اتفاق کرتی ہے ؟ جواب دیا گیا کہ اپنے اس بھائی کے ساتھ جس کے ساتھ والدہ بھی متفق ہے۔فرمایا کہ پھر وہاں ہی اس کا رشتہ ہو جہاں لڑکی اور اس کا بھائی دونوں متفق ہیں۔“ وو بَابِ ٤٣: تَزْوِيجُ الْيَتِيمَةِ یتیم لڑکی کا نکاح کر دینا ( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۳۵۵) لِقَوْلِ الله تَعَالَى: وَإِنْ خِفْتُمُ اللَّا تُقْسِطُوا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یعنی اگر تم ڈرو کہ یتیموں في الْيَثْنى فَانْكِحُوا (النساء:٤) وَإِذَا قَالَ کے متعلق انصاف نہیں کرو گے تو ( پھر دوسری لِلْوَلِي زَوَجْنِي فَلَانَةَ فَمَكَثَ سَاعَةً عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں اُن سے) نکاح کر لو۔اور اگر کوئی سر پرست سے کہے: فلانی لڑکی كذا أَوْ قَالَ مَا مَعَكَ؟ فَقَالَ مَعِي۔کا مجھ سے نکاح کرو پھر وہ کچھ دیر ٹھہرا رہے یا کہے: وَكَذَا أَوْ لَبِنَا ثُمَّ قَالَ زَوَّجْتُكَهَا فَهُوَ تمہارے پاس کیا جائیداد ہے ؟ اور وہ کہے: میرے جَائِزٌ فِيهِ سَهْل عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ پاس فلاں فلاں جائیداد ہے۔یاوہ دونوں انتظار