صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 77
صحیح البخاری جلد ۱۳ 22 ۶۷ - كتاب النكاح وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ أَنْ تَسْكُتَ۔لوگوں نے پوچھا: یارسول اللہ ! اور اس کی اجازت کیسے ہو گی؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ خاموش رہے۔أطرافه ٦٩٦٨ ، ٦٩٧٠۔٥١٣٧: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ :۵۱۳۷ عمرو بن ربیع بن طارق نے ہم سے بیان طَارِقِ حَدَّثَنَا اللَّيْتُ عَنِ ابْنِ أَبِي کیا۔لیث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن مُلَيْكَةَ عَنْ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ ابی ملیکہ سے ، انہوں نے ابو عمرو ( ذکوان) سے جو عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ حضرت عائشہ کے غلام تھے ، ابو عمرو نے حضرت يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي قَالَ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! کنواری تو شرماتی ہے۔آپ نے رِضَاهَا صَمْتُهَا۔أطرافه: ٦٩٤٦، ٦٩٧١ - فرمایا: اس کی رضامندی اس کی خاموشی ہے۔بَاب ٤٢ : إِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ فَنِكَاحُهُ مَرْدُودٌ اگر کوئی اپنی بیٹی کی شادی کرے اور وہ ناپسند کرتی ہو تو اس کا نکاح رڈ ہو گا ٥١٣٨: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ :۵۱۳۸: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے عبد الرحمن الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن قاسم سے، عبدالرحمن نے اپنے باپ سے، انہوں نے عبد الرحمن اور مجمع سے جو دونوں یزید وَمُجَمِّعِ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِدَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّ بن جاریہ کے بیٹے تھے۔انہوں نے حضرت خنساء بنت خذام انصاریہ سے روایت کی کہ ان کے باپ أَبَاهَا زَوْجَهَا وَهْيَ ثَيِّبْ فَكَرِهَتْ نے ان کی شادی کر دی اور وہ ثیبہ تھیں اور انہوں ذَلِكَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ نے اس بات کو ناپسند کیا۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ نے باپ کا کیا ہوا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا۔أطرافه ٥١٣٩، ٦٩٤٥، ٦٩٦٩- نکاح رد کر دیا۔1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ نگا ہ ہے۔(فتح الباری جزء ۹ حاشیہ صفحہ ۲۴۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔