صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 74
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۷۴ ۶۷ - كتاب النكاح اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ اور آدھی میں لے لیتا ہوں۔آپ نے فرمایا: نہیں۔الْقُرْآنِ۔کیا تمہیں قرآن سے کچھ یاد ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: جاؤ جو تمہیں قرآن یاد ہے اس کے عوض میں میں نے تم سے اس کا نکاح کر دیا۔أطرافه ۲۳۱۰، ۵۰۲۹، ۵۰۳۰، ۰۰۸۷، ۱۲۱، ۰۱۲۶، ۱۳۵، 5141، 5149، باب ۳۸: إِنْكَاحُ الرَّجُلِ وَلَدَهُ الصَّغَارَ آدمی کا اپنے چھوٹے بچوں کا نکاح کرنا لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَالّي لَمْ يَحِضْنَ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور وہ عورتیں جن کو (الطلاق: ٥) فَجَعَلَ عِدَّتَهَا ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ابھی حیض نہیں آیا، تو ان عورتوں کی بھی بالغ ہونے سے پہلے تین مہینے عدت ٹھہرائی۔قَبْلَ الْبُلُوغ۔٥۱۳۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۵۱۳۳ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ بن عروہ) سے ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بِنْتُ بِتِ سِنِينَ وَأُدْخِلَتْ عَلَيْهِ کی۔(انہوں نے کہا) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ وَمَكَقَتْ عِنْدَهُ سے شادی کی جبکہ وہ چھ سال کی تھیں۔اور آپ کے پاس رخصتانہ ہو جبکہ وہ نو برس کی تھیں۔اور تِسْعًا۔وہ آپ کے پاس نو برس رہیں۔أطرافه: ۳٨٩٤، ۳۸۹۶، ٥۱۳، ٥١٥٦، ٥١٥٨، ٥١٦٠۔بَاب :۳۹: تَزْوِيجُ الْأَبِ ابْنَتَهُ مِنَ الْإِمَامِ باپ کا اپنی بیٹی کی امام سے شادی کر دینا وَقَالَ عُمَرُ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اور حضرت عمر نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے