صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 47 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 47

صحیح البخاری جلد ۱۳ م ۶۷ - كتاب النكاح وَقَالَ أَنَسٌ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ اور حضرت انس نے کہا: وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ (النساء : ٢٥) ذَوَاتُ الْأَزْوَاجِ الْحَرَائِرُ سے مراد وہ خاوند والیاں ہیں جو آزاد ہیں، وہ بھی حَرَامٌ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمُ (النساء : ٢٥) حرام ہیں۔إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ یعنی سوائے اُن کے جن کے تم اپنے معاہدات کی رُو سے جائز مالک لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُنْزِعَ الرَّجُلُ جَارِيَتَهُ مِنْ عَبْدِهِ۔وَقَالَ وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَتِ بنے ہو۔حضرت انس (اس آیت کی بنا پر اس میں حرج نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی شخص اپنے حَتَّى يُؤْمِنَ (البقرة: ٢٢٢)۔غلام سے اپنی لونڈی کو جدا کرے۔نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ولا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَتِ حَتَّى يُؤْمِنَ یعنی مشرک عورتوں سے جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں نکاح نہ کرو۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا زَادَ عَلَى أَرْبَعِ اور حضرت ابن عباس نے کہا: چار عورتوں سے جو فَهُوَ حَرَامٌ كَأُمِّهِ وَابْنَتِهِ وَأُخْتِهِ۔زیادہ ہو وہ بھی اسی طرح حرام ہے جیسے اپنی ماں یا اپنی بیٹی یا اپنی بہن۔٥١٠٥: وَقَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ۵۱۰۵: اور احمد بن حنبل نے ہم سے کہا کہ یحییٰ بن حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ سعید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ حبیب ( بن ابی ثابت) نے مجھے بتایا۔انہوں نے سعید بن جبیر سے ، سعید نے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔خاندانی حَدَّثَنِي حَبِيبٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ۔ابْنِ عَبَّاسٍ حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصَّهْرِ سَبْعٌ۔ثُمَّ قَرَأَ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ رشتوں میں سے سات حرام ہیں اور دامادی رشتوں أمهتكم (النساء: ٢٤) الْآيَةَ۔وَجَمَعَ میں سے بھی سات حرام ہیں۔یہ کہہ کر انہوں نے عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْنَ ابْنَةِ عَلِيّ یہ آیت پڑھی: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ۔اور وَامْرَأَةِ عَلِيّ۔وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ لَا بَأْسَ حضرت عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب) نے حضرت ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع " " تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئی ہیں۔“ ے