صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 44
صحیح البخاری جلد ۱۳ مم ۶۷ - كتاب النكاح - سَوْدَاءُ فَقَالَتْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ (سختیانی) نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے عبد اللہ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عُقْبَةَ بن ابی ملیکہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: مجھ سے بْنِ الْحَارِثِ - قالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عبيد بن ابى مریم نے بیان کیا۔وہ حضرت عقبہ بن عُقْبَةَ لَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ حارث سے روایت کرتے تھے۔(عبد اللہ بن ابی قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةٌ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ ملیکہ نے) کہا: اور میں نے بھی یہ حدیث خود حضرت عقبہ سے سنی مگر عبید کی حدیث مجھے زیادہ یاد ہے۔( حضرت عقبہ نے ) کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی۔اتنے میں ایک سیاہ فام عورت آئی، وہ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةً بِنْتَ فُلَانٍ فَجَاءَتْنَا کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔یہین کر امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ لِي إِنِّي قَدْ میں نبی صلی ال نیم کے پاس آیا اور میں نے کہا: میں نے أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ فَأَعْرَضَ فلاں عورت سے جو فلاں کی بیٹی ہے شادی کی۔پھر عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ قُلْتُ إِنَّهَا ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور اس نے كَاذِبَةٌ۔قَالَ كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ مجھے کہا: میں نے تو تم دونوں کو دودھ پلایا تھا حالانکہ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ۔وہ چھوٹی ہے۔آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا۔میں وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ آپ کے سامنے اس طرف سے آیا جس طرف آپ کا منہ تھا۔میں نے کہا وہ جھوٹی ہے۔آپ نے فرمایا: اب تم اس کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہو جبکہ وہ عورت یہ کہتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔اس عورت کو علیحدہ کر دو۔اور اسماعیل نے اپنی دونوں انگلیوں یعنی سبابہ اور درمیانی انگلی سے وَالْوُسْطَى يَحْكِي أَيُّوبَ۔اشارہ کیا کہ ایوب نے اس طرح اشارہ کیا تھا۔أطرافه (۸۸، ٢٠٥۲، ٢٦٤٠، ٢٦٥٩، ٢٦٦٠- تشریح : شَهَادَةُ الْمُرْضِعَ : یعنی دودھ پلانے والی کی شہادت۔باب ۲۰ سے ۲۳ تیک کی احادیث میں رضاعت کے نتیجہ میں قائم ہونے والے رشتوں اور ان کے تعلق سے دیگر مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔اس ضمن میں فقہ احمدیہ کا ایک مفید نوٹ درجہ ذیل ہے: ا وہ رشتے جو بر بنائے نسب حرام ہیں اگر وہی رشتے بر بنائے رضاعت قائم ہوں تو ان سے بھی نکاح ابدی حرام