صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 41
صحیح البخاری جلد ۱۳ طرفه: ٢٦٤٥ - ام ۶۷ - كتاب النكاح قَتَادَةَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ مِثْلَهُ۔کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے مادہ سے سنا۔(انہوں نے کہا: ) میں نے جابر بن زید سے سنا۔٥١٠١: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعِ :۵۱۰۱: حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے زہری سے روایت أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ کی، کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت زینب أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ بنت ابی سلمہ نے انہیں خبر دی کہ حضرت ابوسفیان أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ کی بیٹی حضرت ام حبیبہ نے انہیں بتایا۔انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ میری بہن سے جو ابو سفیان يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي کی بیٹی ہے نکاح کر لیں۔آپ نے فرمایا: کیا تم اس رض سُفْيَانَ فَقَالَ أَوَتُحِيِّينَ ذَلِكِ؟ فَقُلْتُ کو پسند کرتی ہو ؟ میں نے کہا: ہاں میں آپ کے لئے نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ تنہا تو ہوں نہیں، اور پسند کرتی ہوں کہ جو بھلائی میں شَارَكَنِي فِي خَيْرِ أُخْتِي فَقَالَ النَّبِيُّ میری شریک ہو وہ میری بہن ہو۔نبی صلی ا ہم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ذَلِكِ لَا فرمایا: یہ میرے لئے جائز نہیں۔(حضرت ام حبیبہ يَحِلُّ لِي۔قُلْتُ فَإِنَّا نُحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ کہتی تھیں) میں نے کہا: ہمیں بتایا جاتا ہے کہ آپ أَنْ تَنْكِحَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ۔قَالَ بِنْتَ ابو سلمہ کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔آپ نے أُمِّ سَلَمَةَ؟ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ لَوْ أَنَّهَا فرمايا: أم سلمہ کی بیٹی سے ؟ میں نے کہا: ہاں۔آپ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ نے فرمایا: اگر وہ میری پرورش میں میری ربیبہ نہ ہوتی تب بھی میرے لئے جائز نہ ہوتی، کیونکہ وہ لِي إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ۔میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔مجھے اور ابو سلمہ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ تُوَيْبَةُ فَلَا کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا۔اس لئے تم اپنی بیٹیاں تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ مجھ پر پیش نہ کیا کرو اور نہ ہی اپنی بہنیں۔عروہ قَالَ عُرْوَةُ وتُوَيْبَةُ مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ نے کہا: اور ثویبہ ابو لہب کی لونڈی تھی۔ابولہب وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ نے اُسے آزاد کر دیا تھا۔اور اُس نے نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا مَاتَ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔جب ابو لہب مر گیا تو اُس