صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 35
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۵ ۶۷ - كتاب النكاح غریب سے شادی کرنا، غریب آدمی کا امیر سے شادی کرنا وغیرہ۔ان روایات میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اگر چہ نکاح کرنے میں انسان با اختیار ہے اور اس کی مرضی پر موقوف ہے کہ وہ مالدار، اچھی شکل و صورت یا دیندار عورت کا انتخاب کرے مگر ازدواجی رشتہ کے اس بندھن میں بسا اوقات بعض چیزوں کی قربانی کر کے اور بعض فوائد کو چھوڑ کر بعض اور خوبیوں کی وجہ سے کسی مرد کا عورت سے یا عورت کا مرد سے نکاح ہو سکتا ہے اور یہ چیزیں مثلاً عمر، تعلیم، مالی حیثیت دینی حیثیت وغیرہ شادی کے بابرکت حکم سے محروم ہونے کا موجب نہیں بننی چاہئیں۔ہر ایک مرد اور عورت کو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر عمل کرنا چاہیے۔اور اس طرح اپنے آپ کو اور دوسروں کو اور معاشرے کو شادی نہ کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے نقصانات سے بچانا چاہیئے۔اور اس میں شادی کے لئے اگر کسی بڑے اہتمام کی توفیق نہ ہو یا موقع نہ ہو تو بھی نکاح کے اس بڑے مقصد کی خاطر جیسے حالات ہوں نکاح کر لینا چاہیے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نمونہ سے دوران سفر اور جنگوں میں صحابہ کو معمولی حیثیت میں شادیاں کرنے کی تعلیم دی اور تجر د سے بچنے کا حکم دیا۔کیونکہ تجرد خلاف فطرت ہے سوائے اس کے کہ کسی کی حقیقی مجبوری ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اگر حسب مراور شتہ ملے تو اپنی کفو میں کرنا بہ نسبت غیر کفو کے بہتر ہے۔لیکن یہ امر ایسا نہیں کہ بطور فرض کے ہو۔ہر ایک شخص ایسے معاملات میں اپنی مصلحت اور اپنی اولاد کی بہتری کو خوب سمجھ سکتا ہے۔اگر کفو میں وہ کسی کو اس لائق نہیں دیکھتا تو دوسری جگہ دینے میں حرج نہیں اور ایسے شخص کو مجبور کرنا کہ وہ بہر حال اپنی کفو میں اپنی لڑکی دیوے، جائز نہیں ہے۔“ (فقہ السیح صفحه ۲۴۵- بدر ۱۱ اپریل ۱۹۰۷ صفحه ۳) باب ۱۷ : مَا يُتَّقَى مِنْ شُؤْمِ الْمَرْأَةِ عورت کی نحوست سے بچنا وَقَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یعنی تمہاری بیویوں اور بچوں و اولادِكُمْ عَدُوا لَكُمْ (التغابن: ١٥)۔سے بعض تمہارے دشمن بھی ہیں۔٥٠٩٣: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۵۰۹۳: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابن شہاب حَمْزَةَ وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ سے ابن شہاب نے حمزہ اور سالم سے جو حضرت ،