صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 30 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 30

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۷ - كتاب النكاح بَابِ ١٥: الْأَكْفَاءُ فِي الدِّينِ دین میں برابر کے لوگ وَقَوْلُهُ وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور وہی ہے جس نے پانی سے فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَ صِهْدًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيدًا بشر کو پیدا کیا اور اس کے لئے خاندانی رشتے اور (الفرقان : ٥٥) دامادی تعلقات بنائے اور تیرارب بہت ہی بڑی قدرت رکھتا ہے۔٥٠۸۸: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۵۰۸۸ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے زہری سے روایت بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کی۔انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر - رنے مجھے بتایا۔أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت عَبْدِ شَمْسٍ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا کی کہ حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّى عبد شمس نے ، اور وہ اُن لوگوں میں سے تھے جو نبی سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے، الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَوْلًى سالم بن معقل ) کو اپنا بیٹا بنایا اور ان سے اپنی بھتیجی ہند کی شادی کر دی جو ولید بن عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی لامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّي النَّبِيُّ تھیں۔اور یہ (سالم) ایک انصاری عورت کے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا۔وَكَانَ مَنْ آزاد کردہ غلام تھے۔انہوں نے اس کو اُسی تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ طرح بیٹا بنایا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت إِلَيْهِ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ زید کو بیٹا بنایا تھا۔اور جاہلیت میں جو کسی شخص کو اپنا أدعُوهُمْ لا بَابِهِمْ إِلَى قَوْلِهِ وَمَوَالِيَكُمُ بیٹا بناتا تو لوگ اس کو اسی کی طرف منسوب کر کے (الاحزاب: (٦) فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ فَمَنْ پکارتے اور وہ اُس کی وراثت کا وارث ہوتا۔( یہی لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبْ كَانَ مَوْلَّى وَأَخَا فِي حال رہا) یہاں تک کہ اللہ نے یہ حکم نازل کیا: یعنی الدِّينِ۔فَجَاءَتْ سَهْلَهُ بِنْتُ سُهَيْلِ (چاہیے کہ) اُن (لے پالکوں) کو اُن کے باپوں بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيّ ثُمَّ العَامِرِيِّ وَهِيَ کا بیٹا کہہ کر پکارو۔یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ