صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 31
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۳۱ ۶۷ - كتاب النكاح امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ النَّبِيَّ فعل ہے۔ اور اگر تم کو معلوم نہ ہو کہ اُن کے باپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا کون ہیں تو ( بہر حال) وہ تمہارے دینی بھائی ہیں رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا اور دینی دوست ہیں، اس لئے وہ پھر اُن کے باپوں وَقَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيهِ مَا قَدْ عَلِمْتَ کی طرف ہی منسوب کئے جانے لگے۔ جس کا باپ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ۔ معلوم نہ ہوتا وہ مولی اور دینی بھائی کے نام سے پکارا جاتا۔ حضرت سہلہ بنت سہیل بن عمر و قریشی طرفه: ٤٠٠٠ - عامری جو کہ حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ کی بیوی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! ہم سالم کو بیٹا سمجھا کرتے تھے اور اب اللہ نے اس کے متعلق وہ کچھ حکم نازل کیا ہے جو آپ جانتے ہی ہیں۔ پھر انہوں نے ساری حدیث کا ذکر کیا۔ ٥٠٨٩ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۵۰۸۹: عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ ) عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، انہوں نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ عائشہؓ سے روایت کی۔ فرماتی تھیں: رسول اللہ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا لَعَلَّكِ أَرَدْتِ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر کے پاس الْحَجَّ قَالَتْ وَاللهِ لَا أَجِدُنِي إِلَّا آئے۔ آپ نے اس سے پوچھا: شاید تو حج کرنے کا وَجِعَةً فَقَالَ لَهَا حُبِّي وَاشْتَرِطِي ارادہ رکھتی ہے۔ اس نے کہا: بخدا میں تو اپنے تئیں وَقُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي بیمار ہی پاتی ہوں۔ آپؐ نے اس سے فرمایا: حج کا وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ احرام باندھ لو اور مشروط کر دو اور کہو: اے اللہ میں و ہیں احرام کھول دوں گی جہاں بھی تو نے مجھے روک دیا۔ اور یہ حضرت مقداد بن اسوڈ کی بیوی تھی۔