صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 523
” البخاری جلد۱۳ ۵۲۳ ۷۳ - كتاب الأضاحي تشريح۔مَا يُؤكَلُ مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا: قربانی کے گوشت سے جو کھایا جائے اور جو اُن سے بطور زاد کے لیا جائے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فرماتے ہیں: ”جہاں تک قربانی کے گوشت کا تعلق ہے، یاد رکھیں کہ اگر تیسر ا حصہ اس کا اپنے لیے رکھ لیں اور باقی دو حصوں کو غربا اور مسکینوں اور دوسرے رشتہ داروں وغیرہ پر تقسیم کر دیں تو یہ عین سنت کے مطابق ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور ایسے گوشت کو اگر سنبھالا بھی جا سکتا ہو کچھ عرصہ کے لیے، قربانی کے گوشت کو تو یہ منع نہیں ہے۔لیکن بعض حدیثوں سے صحابہ کو یہ شبہ پڑا کہ گویا تین دن کے اندر یہ گوشت تقسیم کر دینا ضروری ہے اور باقی نہیں رکھا جا سکتا اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وضاحت کرنی پڑی۔۔۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں ان باہر سے آنے والوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت آگئے تھے۔یعنی ایک ہلہ بولا تھا ان فقیروں نے تو ان کی خاطر یہ خیال تھا کہ قربانیاں تھوڑی نہ ہو جائیں اور ان کی اشتہاء ، وہ جس وجہ سے وہ پھر رہے ہیں وہ پوری نہ ہو سکے اس لیے میں نے منع کیا تھا۔اب گوشت کھاؤ اور جمع کرو اور خیرات کرو۔پس اس حدیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس حد تک آپ اپنے حصہ کے لیے قربانی کا گوشت جمع کرنا چاہیں اس کی مناہی نہیں ہے لیکن اگر ایسے غریب علاقوں میں آپ ہوں جہاں قربانی کے ساتھ ارد گرد عام بھوک ہو اور لوگ کثرت کے ساتھ بھوک سے نڈھال ہو کر فاقہ کشی کر رہے ہوں، موت کے قریب پہنچتے ہیں، بعض جگہ ایسے علاقے بھی ہیں اور بعض دفعہ صبر کے ساتھ بیٹھے رہتے ہیں لیکن بھوک ان کو عملا موت کے کنارے تک پہنچا دیتی ہے۔ایسی جگہ پر اگر کوئی احمدی قربانی کرتا ہے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ان کا خیال نہ کرے اور تین دن سے زائد اپنے لیے گوشت جمع کر لے۔تین دن بھی اس کا دل نہیں چاہے گا، وہ چاہے گا کہ ایک دو لقے کھائے اور سب قربان کر دے مگر سنت یہی ہے اس لیے تین دن اسے ضرور اپنی قربانی کا گوشت کچھ نہ کچھ اپنے استعمال میں لانا چاہیے اور باقی جس حد تک بھی ہو سکے ایسے غریب علاقوں میں خدا کے بندوں کی خاطر کی ہوئی قربانی کا گوشت پیش کر دیں۔“ ( خطبات عیدین، خطبہ عید الاضحیہ ۲۸ مارچ ۱۹۹۹ء، صفحہ ۶۵۱،۶۵۰) له (صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب بيان ما كان من النهي عن اكل لحوم الاضاحي بعد ثلاث)