صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 522 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 522

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۲۲ ۷۳ کتاب الأضاحي الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا پڑھائی پھر لوگوں کو مخاطب ہوئے، کہنے لگے: النَّاسُ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ لوگو! یہ وہ دن ہے جس میں تمہارے لئے دو فِيْهِ عِيْدَانِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُنْتَظِرَ عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں۔اہل عوالی میں سے جو جمعہ الْجُمُعَةَ مِنْ أَهْل الْعَوَالِي فَلْيَنْتَظِرْ کا انتظار کرنا چاہے وہ انتظار کرے اور جو واپس جانا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُرْجِعَ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ۔چاہے تو میں اس کو اجازت دیتا ہوں۔٥٥٧٣: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُهُ :۵۵۷۳: ابو عبید نے کہا: پھر میں حضرت علی بن مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَصَلَّى قَبْلَ ابی طالب کے ساتھ موجود تھا۔انہوں نے خطبہ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ سے پہلے نماز پڑھائی۔پھر لوگوں سے مخاطب رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُوْمَ نُسُكِكُمْ تمہیں منع کیا ہے کہ تم اپنی قربانیوں کو تین دن فَوْقَ ثَلَاثِ۔وَعَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِي سے زیادہ کھاؤ۔اور معمر سے بھی اسی سند سے مروی عَنْ أَبِي عُبَيْدِ۔۔۔نَحْوَهُ۔ہے کہ انہوں نے زہری سے ، زہری نے ابو عبید سے اسی طرح روایت کی۔٥٥٧٤ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ :۵۵۷۴ محمد بن عبد الرحیم ( صاعقہ) نے مجھ سے الرَّحِيْمِ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ہمیں بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ بتایا۔انہوں نے ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عَنْ عَمِهِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عبد الله سے، محمد نے اپنے چا ابن شہاب سے، عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ابن شہاب نے سالم سے ، سالم نے حضرت عبد اللہ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ كُلُوْا مِنَ الْأَصَاحِيِّ ثَلَاثًا وَكَانَ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قربانی کے گوشت سے تین دن تک کھاؤ اور حضرت عبد اللہ جب منی عَبْدُ اللهِ يَأْكُلُ بِالزَّيْتِ حِيْنَ يَنْفِرُ سے کوچ کرتے تو اس وجہ سے کہ وہ قربانی کے مِنْ مِنِّي مِنْ أَجْلِ لُحُوْمِ الْهَدْيِ۔گوشت ہیں تیل سے روٹی کھایا کرتے تھے۔