صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 521
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۲۱ ۷۳ - كتاب الأضاحي تَأْكُلُوْا إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيْسَتْ بِعَزِيْمَةٍ اس کو مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ نَطْعِمَ مِنْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ لاتے۔آپ نے فرمایا: قربانی کا گوشت صرف تین دن ہی کھاؤ اور یہ حکم وجوب کے طور پر نہیں أطرافه ٥٤٢٣، ٥٤٣٨ ٦٦٨٧- رَضِيَ تھا بلکہ آپ کی مراد یہ تھی کہ دوسروں کو بھی ہم اس سے کھلائیں اور اللہ بہتر جانتا ہے۔٥٥٧١: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى :۵۵۷۱ حیان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔انہوں عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدِ نے کہا کہ یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيْدَ يَوْمَ سے زہری نے کہا: ابو عبید جو (عبد الرحمن) بن الْأَضْحَى مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ازہر کے غلام تھے، نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قربانی کے دن عید پڑھی۔انہوں نے خطبہ سے إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پہلے نماز پڑھائی۔پھر لوگوں سے مخاطب ہوئے۔قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ صِيَامٍ هَذَيْنِ الْعِيْدَيْنِ انہوں نے کہا: اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيَوْمُ فِطْرَكُمْ مِنْ عليه وسلم نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے صِيَامِكُمْ وَأَمَّا الْآخَرُ فَيَوْمٌ تَأْكُلُونَ سے منع کیا ہے۔ان میں سے ایک تو وہ دن ہے جب تم اپنے روزے افطار کرتے ہو اور دوسرا مِنْ نُسُكِكُمْ۔طرفه: ۱۹۹۰ - دن وہ ہے جب تم اپنی قربانیوں کو کھاتے ہو۔٥٥٧٢: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُ :۵۵۷۲ ابو عبید نے کہا: پھر میں حضرت عثمان الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَكَانَ بن عفان کے ساتھ عید میں شریک ہوا اور وہ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَصَلَّى قَبْلَ جمعہ کا دن تھا۔انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز