صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 511
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۱۱ ۷۳ - كتاب الأضاحي ٥٥٥٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۵۵۵۷: محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ محمد بن جعفر حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہم سے عَنْ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنِ بیان کیا۔انہوں نے سلمہ (بن کہیل) سے ، سلمہ الْبَرَاءِ قَالَ ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ نے ابو جحیفہ سے، ابو جحیفہ نے حضرت براء (بن الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عازب) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْدِلْهَا قَالَ لَيْسَ عِنْدِي ابوبردہ نے نماز سے پہلے ذبح کیا تو نبی صلی اللہ إِلَّا جَدَعَةٌ۔قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اس کے بدلے اور هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ قَالَ اجْعَلْهَا قربانی کرو۔حضرت ابو بر دگا نے کہا: میرے پاس مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ صرف ایک سال کا بکری کا بچہ ہی ہے۔شعبہ کہتے تھے اور میں خیال کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دو برس کی بکری سے بہتر ہے۔آپ نے فرمایا: اسی کو اس کی جگہ کر دو اور تمہارے بعد کسی کی طرف سے یہ قربانی کے قائمقام نہ ہو گا۔أطرافه ،۹۵۱ ، ،۹۵۰ ، ۹۶۵، ۹۶۸ ، ،۹۷۶ ، ۹۸۳ ، ٥٥٤٥، ٥٥٥٦ ٠٥٥٦٣،٥٥٦٠ ٦٦٧٣- وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ اور حاتم بن وردان نے ایوب سے نقل کیا۔ایوب مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ نے محمد بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَنَاقٌ جَدَعَةٌ۔انس سے، حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی روایت میں یوں کہا : عَنَاقُ جَزَعَةٌ تشريح : طَحَ بِالْجَدَعِ مِنَ الْمَعَزِ وَلَنْ تَجْزِى عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ: بمری کے ایک برس کے بچے کی ہی قربانی کر لو اور تمہارے بعد کسی کی طرف سے یہ قربانی کے قائمقام ہر گز نہیں ہو گا۔قربانی کے لیے اُونٹ، گائے، بکری، بھیڑ، دنبہ ان میں سے کوئی سا جانور ذبح کیا جاسکتا ہے اونٹ اور گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور بھیڑ بکری وغیرہ ایک آدمی کی طرف سے کافی ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ انسان قربانی کی نیت سے اپنے کنبہ کو بھی شامل کر سکتا ہے۔نیز قربانی کا جانور کمزور اور عیب دار نہیں ہونا چاہیے۔لنگڑا ، کان کٹا، سینگ ا (سنن ابن ماجه، كتاب الأضاحي، بَابُ مَنْ ضَحَى بشأة عن أهله)