صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 510 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 510

صحیح البخاری جلد ۱۳ عَنِ ۵۱۰ ۷۳ - كتاب الأضاحي الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عامر (شعبی) سے: عَنْهُمَا قَالَ ضَحَّى خَالْ لِي يُقَالُ لَهُ عامر نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ روایت کی۔انہوں نے کہا: میرے ایک ماموں رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے جو ابو بر دھ کہلاتے تھے، نماز سے پہلے قربانی کر شَاتُكَ شَاةُ لَحْمِ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ دی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَدَعَةً مِنَ الْمَعَزِ تمہاری بکری تو گوشت کی بکری ہے۔ہے۔تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے پاس گھر کا پلا ہوا قَالَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا قَالَ اذْبَحْهَا وَلَنْ تَصْلُحَ لِغَيْرِكَ ثُمَّ ایک سال کا بکری کا بچہ ہے۔آپ نے فرمایا: اس يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ۔کو ذبح کر لو اور تمہارے سوا کسی کے لئے درست نہیں ہو گا۔پھر آپ نے فرمایا: جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا تو وہ تو اپنے لئے ہی ذبح کرتا ہے۔جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی پوری ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے طریق پر عمل کیا۔تَابَعَهُ عُبَيْدَةُ عَنَ الشَّعْبِيِّ وَإِبْرَاهِيْمَ مطرف کی طرح) اس حدیث کو عبیدہ (نبی) وَتَابَعَهُ وَكِيعٌ عَنْ حُرَيْثٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ نے بھی شعبی اور ابراہیم (شخصی) سے روایت کیا وَقَالَ عَاصِمٌ وَدَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيَ اور عبیدہ کی طرح) وکیج نے بھی اس کو حریث عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنِ وَقَالَ زُبَيْدٌ وَفِرَاس سے، حریث نے شعبی سے روایت کیا۔اور عاصم اور داؤد نے شعبی سے یوں نقل کیا کہ میرے پاس ایک سال کا دودھ پیتا بچہ ہے۔اور زبید اور فراس عناق نے شعبی سے یوں نقل کیا کہ میرے پاس ایک عَنِ الشَّعْبِي عِنْدِي جَذَعَةٌ۔وَقَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا مَنْصُوْرٌ جَدَعَةٌ۔وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ عَنَاقٌ جَدَعْ برس کا بکر وٹا ہے۔اور ابو الاحوص نے کہا: ہم سے عَنَاقُ لَبَنٍ۔منصور نے عناق جَزَعَةٌ دونوں لفظ بیان کئے اور ابن عون نے کہا: عناق جذع اور عناقُ لَبَنِ۔أطرافه ،۹۵۱، ۹۰۵، ۹۶۵، ۹۶۸، ۹۷۶، ۹۸۳، ٥٥٤٥، ٥٥٥، ٥٥٦، ٥٥٦٣، -٦٦٧٣