صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 508
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۰۸ ۷۳ - كتاب الأضاحي أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيْرِينَ عَنْ أَنَسٍ۔ اور اسماعیل بن علیہ) اور حاتم بن وردان نے ایوب سے، ایوب نے (محمد) بن سیرین سے، انہوں نے حضرت انس سے روایت کرتے ہوئے یہی کہا۔ أطرافه: ٥٥٥٣، ٥٥٥٨، ٥٥٦٤، ٥٥٦٥، ٧٣٩٩۔ ٥٥٥٥: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ۵۵۵۵ عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید ( بن ابی حبیب) الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ سے، یزید نے ابوالخیر (مرثد بن عبداللہ ) سے، عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کچھ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَدُوْدٌ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ بکریاں دیں کہ آپ کے صحابہ میں قربانی کیلئے تقسیم کر دیں۔ ان میں سے ایک، ایک سالہ بکر وٹا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِ بِهِ أَنْتَ۔ أطرافه ۲۳۰۰ ، ٢٥٠٠، ٥٥٤٧۔ بیچ رہا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: تم اس کی قربانی کرو۔ تشريح : أُضْحِيَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَ نَين نبی صلی الہ علیہ سلم کا دو سینگدار مینڈھوں کی قربانی کرنا۔ کرنا۔ حضرت خلیفہ المسیح الرابع فرماتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا ایسا مینڈھا لانے کا حکم دیا جس کے پاؤں پیٹ اور آنکھوں کے حلقوں کا رنگ سیاہ ہو۔ یعنی قربانی وہ پیش کرتے تھے جو حتی الامکان زیادہ سے زیادہ خوبصورت ہو یعنی ظاہری سجاوٹ کا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال رہتا تھا۔ اصل سجاوٹ تو باطنی سجاوٹ ہے لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر و باطن کے نبی تھے۔ یکساں ہر طرف خیال رہتا تھا۔ پس دیکھیں خدا کے حضور قربانی کرتے وقت کس محبت کے جذبے کا اظہار فرمایا ہے۔ جو بہترین خوبصورت قربانی ہو سکتی تھی۔ آپؐ نے فرمایا ایسا مینڈھا تلاش کرو جس کے