صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 509
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۰۹ ۷۳ - كتاب الأضاحي پاؤں، پیٹ اور آنکھوں کے حلقوں کا رنگ سیاہ ہو۔ایسا مینڈھا قربانی کے لیے لایا گیا۔حضور نے حضرت عائشہ سے فرمایا: چھری لاؤ۔پھر فرمایا: اسے پتھر سے رگڑ کر تیز کرو۔عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے ایسا ہی کیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی۔مینڈھے کو پکڑا، لٹایا اور ذبح کرتے ہوئے فرمایا: بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلُ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةٍ مُحَمَّدٍ بِسْمِ اللهِ ل یعنی اے اللہ میں تیرے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں تو میری اس قربانی کو قبول فرما لے۔تَقَبَّلُ مِنْ مُحَمَّد محمد سے یہ قربانی قبول فرما لے۔وَآلِ مُحَمَّد اور محمد کی آل کی طرف سے یہ قربانی قبول فرما لے وَمِنْ أُمَّتِ محمد اور محمد کی امت کی طرف سے بھی۔اور جب آل فرما دیا تھا تو امت محمد الگ کہنے کا کیا موقع تھا؟ اس کی حکمت یہ ہے کہ ساری امت آل تو نہیں بن سکتی کیونکہ آل ہونے کے لیے جو شرائط ہیں وہ امت کے اکثر افراد میں موجود نہیں ہوتیں۔پس آل وہی بن سکتا ہے جو حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والا ہو۔لیکن آپ نے اپنی طرف منسوب ہونے والوں کو بھی یادر کھا۔فرمایا امت تو میری ہی ہے، میری ہی طرف منسوب ہوتی ہے۔پس آل کی طرف سے تو ضرور قبول فرما اور میری ساری امت کی طرف سے بھی جو میری طرف منسوب ہوتی ہے۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھری پھیری اور قربانی پیش کی۔“ خطبات عیدین از حضرت خلیفتہ المسیح الرابع، خطبہ عید الاضحیہ ۲۸ مارچ ۱۹۹۹ء، صفحه ۶۴۹،۶۳۸) بَاب۸: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بُرْدَةَ ضَحَ بِالْجَذَعِ مِنَ الْمَعَزِ وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابوبردہ سے فرمانا کہ بکری کے ایک برس کے بچے کی ہی قربانی کر لو اور تمہارے بعد کسی کی طرف سے یہ قربانی کے قائمقام ہر گز نہیں ہو گا ٥٥٥٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدُ :۵۵۵۶ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُطَرِّفْ عَنْ عَامِرٍ عبد اللہ نے ہمیں بتایا کہ مطرف (بن طریف) نے (مسلم، کتاب الاضاحی، باب استحباب الضحية وذبحها مباشرة بلا توكيل والتسمية)