صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 506 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 506

صحیح البخاری جلد ۱۳ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ أطرافه: ۹۸۲ ، ۱۷۱۰، ۱۷۱۱، ٥٥٥٢۔ ۵۰۶ ۷۳ - كتاب الأضاحي عبید اللہ نے کہا: یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربان گاہ میں۔ ٥٥٥٢ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۵۵۵۲: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کثیر بن فرقد سے، نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کثیر نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر أَخْبَرَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدہ گاہ میں ہی ذبح أطرافه: ۹۸۲، ۱۷۱۰، ۱۷۱۱، ٥٥٥۱۔ اور نحر کیا کرتے تھے۔ تشريح : الْأَعْمَى وَالنَّحْرُ بِالْمُصَلَّى : قربانی کا جانو اور عید گاہ میں قربانی کرنا۔ شریعت کے احکام کا ایک حصہ انتظامی امور سے تعلق رکھتا ہے۔ ان میں ثواب کے کم و بیش ہونے کی بحث سے زیادہ یہ امر قابل التفات اور اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ انتظامی طور پر اس کے حسن و قبح کو دیکھ لیا جائے اور اس کے مالہ وما علیہ کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے۔ یہ سوال کہ قربانی کہاں کی جائے ایک انتظامی سوال ہے اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اجتماعی طور پر جہاں لوگ عید کے لیے اکٹھے ہوں اس کے قریب کوئی ایسی جگہ مختص کر لی جائے جہاں قربانی کرنے اور اس کی متعلقہ ضروریات کا مناسب انتظام ہو۔ اس میں علاوہ سہولت کے قربانیوں کے جانوروں کی الائشوں وغیرہ کے نتیجے میں جو مسائل پیدا ہوتے ہیں ان سے بچا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی کا اپنی سہولت اور انتظام کے مطابق اپنے گھر میں قربانی کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں یہ دونوں طریق پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ بخاری کی مختلف روایات میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت یہ ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نے حضرت ابو بکر کو امیر حج بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ قربانی کے جانور بھی بھیجے اور خود آپ نے مدینہ میں رہتے ہوئے قربانی کی۔ دوم: اگلے سال یعنی ۱۰ ہجری کو آپ نے حج کے موقع پر مخر یعنی قربان گاه (Slaughter House) میں قربانیاں کیں۔ پس آپ کی سنت کے مطابق ان دونوں طریقوں میں سے ہر قوم اور علاقے کے لوگ اپنی سہولت کے مطابق جہاں چاہیں قربانی کر سکتے ہیں۔