صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 505
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۰۵ ٧٣ كتاب الأضاحي أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ۔بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ أَنْ يَكُوْنَ أَوْعَى لَهُ یہ بھی فرمایا اور تمہاری عزتیں تم پر ایسی حرام ہیں مِنْ بَعْضٍ مَنْ سَمِعَهُ۔وَكَانَ مُحَمَّدٌ جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس إِذَا ذَكَرَهُ قَالَ صَدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى الله شہر میں تمہارے اس مہینے میں۔اور تم اپنے رب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ سے ضرور ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق ضرور پوچھے گا۔دیکھو خبر دار ! میرے بعد پھر گمراہ نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو۔سنو کہ جو موجود ہے وہ اس کو پہنچا دے جو موجود نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جن کو یہ بات پہنچے ان میں سے بعض اس کو زیادہ یاد رکھنے والے یا سمجھنے والے ہوں، ان بعض سے جنہوں نے یہ بات سنی ہے۔اور محمد بن سیرین) جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو کہتے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔اس کے بعد آپ نے فرمایا: سنو کیا میں نے پہنچا دیا، سنو کیا میں نے پہنچا دیا؟ أطرافه ،٦٧ ، ،۱۰۰ ، ۱۷٤۱، ۳۱۹۷، ٤٤٠٦، ٤٤٦٦٢ ٧٠٧٨، ٧٤٤٧ باب ٦ : الْأَضْحَى وَالنَّحْرُ بِالْمُصَلَّى قربانی کا جانور اور عید گاہ ہی میں قربانی کرنا ٥٥٥١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ :۵۵۵۱ محمد بن ابی بکر مقدمی نے ہمیں بتایا کہ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ خالد بن حارث نے ہم سے بیان کیا کہ عبید اللہ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ (عمری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے عَبْدُ اللهِ يَنْحَرُ فِي الْمَنْحَرِ۔قَالَ روایت کی۔انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي مَنْحَرَ النَّبِيِّ صَلَّى ( بن عمر) قربان گاہ میں ہی نحر کیا کرتے تھے۔