صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 489
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۸۹ - كتاب الذبائح والصيد بِسَهُم فَحَبَسَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ لَهَا ایک شخص نے اس کو تیر مار کر اسے ٹھہرادیا۔کہتے أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ تھے۔آپ نے اس وقت فرمایا: ان اونٹوں میں مِنْهَا فَاصْنَعُوْا بِهِ هَكَذَا قَالَ قُلْتُ يَا بھی ایسے جانور ہوتے ہیں جو وحشی ہوتے ہیں جیسے رَسُوْلَ اللهِ إِنَّا نَكُوْنُ فِي الْمَغَازِي جنگلی جانوروں میں وحشی ہوتے ہیں، اس لئے جو ان میں سے تمہیں بے بس کر دے اس کے ساتھ وَالْأَسْفَارٍ فَنُرِيْدُ أَنْ نَذْبَحَ فَلَا يَكُوْنُ اسی طرح کرو۔حضرت رافع کہتے تھے۔میں نے مُدًى قَالَ أَرِنْ مَا نَهَرَ أَوْ أَنْهَرَ الدَّمَ کہا: یارسول اللہ! ہم لڑائیوں اور سفروں میں وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ فَكُلْ غَيْرَ السِّنِّ ہوتے ہیں اور ہم ذبح کرنا چاہتے ہیں مگر چھریاں وَالظُّفْرِ فَإِنَّ السِّنَّ عَظَمْ وَالظُّفْرَ نہیں ہوتیں ؟ آپ نے فرمایا: دیکھو جو چیز بھی خون مُدَى الْحَبَشَةِ۔بہائے یا ( فرمایا : ) بہادے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کو کھاؤ مگر دانت اور ناخن نہ ہو کیونکہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں۔أطرافه : ۲٤٨٨، ۲۰۰۷ ،۳۰۷۰ ٥٤۹۸ ٥٥٠٣، ٠٥٥٠٦ ٥٥٠٩، ٥٥٤ تشريح: إِذَا نَدَّ بَعِيرُ لِقَوْمٍ فَرَمَاهُ بَعْضُهُمْ بِسَم۔۔۔اگر لوگوں کا کوئی اونٹ بھاگ نکلے اور ان میں سے کوئی اس کو تیر مار کر مار ڈالے اور وہ ان کی بھلائی کا ارادہ رکھتا ہو تو یہ جائز ہے۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے پہلے گھریلو جانوروں کا ذکر کیا تھا کہ ان کے لیے ایک مقررہ قانون ذبح کا ہے لیکن اگر اتفاقا کسی جانور کے ذبیح پر ہمیں قدرت نہ رہے مثلاً یہ کہ ایسا جانور بھاگ کر اگر وحشی ہو جائے اور ہاتھ نہ آئے یا مثلاً کنوئیں میں اوندھا گر کر پھنس جاوے اور نکل نہ سکے تو پھر ایسے جانور پر بھی شکاری جانوروں والا حکم چلے گا یعنی یہ کہ ان کو بندوق وغیرہ سے مار لینے کی اجازت ہو گی اور کنوئیں والے جانور کے تو جسم کے جس حصہ پر پہنچ سکو وہیں سے اس کو ذبح کر لو کیونکہ حلال کرنے کے صرف دو اصول ہیں (۱) اللہ کا نام لینا اور (۲) خون نکالنا۔باقی خاص طریقہ سے ذبح کرنا یہ تو جانور پر رحم اور احسان ہے اور بعض دفعہ اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔“ روزنامه الفضل قادیان دارالامان مورخه ۵ اگست ۱۹۴۴ صفحه ۴ جلد ۳۲ نمبر ۱۸۲)