صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 488 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 488

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۸۸ -۷۲ - كتاب الذبائح والصيد مِنْ أَوَائِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ انڈیل دی گئیں۔آپ نے ان کے درمیان مال خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهُم فَحَبَسَهُ اللهُ تقسیم کیا اور ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر فَقَالَ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ قرار دیا۔پھر آگے کے لوگوں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا اور ان کے پاس گھوڑے نہ تھے تو ایک مِثْلَ هَذَا۔الْوَحْشِ فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوْا شخص نے اس کو تیر مارا اور اللہ نے اس کو ٹھہرا دیا۔آپ نے فرمایا: ان وحشیوں میں بھی ایسے جانور ہوتے ہیں جو قابو میں نہیں آتے جیسے جنگلی جانور ہوتے ہیں اس لئے جو ان میں سے اس طرح بھاگ جاتے ہیں اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔أطرافه ۲٤٨٨ ، ۲۰۰۷، ۳۰۷۵ ،٥٤٩٨ ٥٥٠٣، ٥٥٠٦ ٥٥٠٩، ٥٥٤٤۔فَقَتَلَهُ بَاب :۳۷: إِذَا نَدَّ بَعِيْرٌ لِقَوْمٍ فَرَمَاهُ بَعْضُهُمْ بِسَهُم فَأَرَادَ إِصْلَاحَهُمْ فَهُوَ جَائِزٌ اگر لوگوں کا کوئی اونٹ بھاگ نکلے اور ان میں سے کوئی اس کو تیر مار کر مار ڈالے اور وہ ان کی بھلائی کا ارادہ رکھتا ہو تو یہ جائز ہے لِخَبَرِ رَافِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اس خبر کی بنا پر جو حضرت رافع نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔٥٥٤٤: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ :۵۵۴۴ محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا کہ عمر أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ الطَّنَافِسِيُّ عَنْ بن عبيد طنافسی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ بن مسروق سے، سعید نے عبایہ بن رفاعہ سے، رِفَاعَةَ عَنْ جَدِهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عبایہ نے اپنے دادا حضرت رافع بن خدی یبح رضی اللہ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَدَّ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو اونٹوں بَعِيْرٌ مِنَ الْإِبِل قَالَ فَرَمَاهُ رَجُلٌ میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا۔انہوں نے کہا: تو رَضِيَ