صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 478
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۷۸ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد عِنْدَنَا بِالْبَصْرَةِ وَلَكِنْ أَبَى ذَلِكَ غفاری بھی ہمارے ہاں بصرہ میں یہی کہا کرتے الْبَحْرُ ابْنُ عَبَّاسِ وَقَرَأَ قُلْ لا أَجِدُ فِي تھے۔ لیکن اس سمندر یعنی حضرت ابن عباس نے مَا أُوحِيَ إِلَى مُحَرَّماً ۔ محرماً ۔ (الأنعام: ١٤٦) انکار کیا اور یہ آیت پڑھی: تو ان سے کہہ کہ جو کچھ میری طرف نازل کیا گیا ہے میں تو اس میں اس شخص پر جو کسی چیز کو کھانا چاہے سوائے مردہ یا بہتے ہوئے خون یا سور کے گوشت کے کوئی چیز حرام نہیں پاتا۔ باب ۲۹ : أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبَاعِ درندوں میں سے ہر کچلی والے کو کھانا ٥٥٣٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۵۳۰: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِي عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے ابو اور لیس خولانی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی سے ، خولانی نے حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں میں سے ہر کچلی والے جانور کو ذِي نَابِ مِنَ السَّبَاعِ۔ أطرافه: ٥٧٨٠، ٥٧٨١ سے منع فرمایا۔ کو کھانے تَابَعَهُ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ (مالک کی طرح) یونس اور معمر اور ابن عیینہ اور ماجشون نے بھی زہری سے روایت کیا۔ وَالْمَاجِشُوْنُ عَنِ الزُّهْرِيِّ۔