صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 471 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 471

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۷۱ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد بَاب ۲۷ : لُحُوْمُ الْخَيْلِ گھوڑوں کے گوشت ٥٥١٩: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۵۵۱۹: عبد اللہ بن زبیر) حمیدی نے ہمیں بتایا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ که سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام أَسْمَاءَ قَالَتْ نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ بن عروہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے فاطمہ ( بنت رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ منذر) سے، فاطمہ نے حضرت اسمائ سے روایت کی فَأَكَلْنَاهُ۔ أطرافه: ٥٥١٠، ٥٥١١، ٥٥١٢۔ کہ وہ کہتی تھیں : ہم نے رسول اللہ صلی علیم کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور ہم نے اسے کھایا۔ ٥٥٢٠ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۵۲۰: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيّ عَنْ جَابِرِ بْنِ نے محمد بن علی سے ، محمد نے حضرت جابر بن عبد اللہ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ نَهَى (انصاری) رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ انہوں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن خَيْبَرَ عَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ وَرَخَّصَ فِي گدھوں کے گوشت سے روک دیا اور گھوڑوں لُحُوْمِ الْخَيْلِ۔ أطرافه : ٤٢١٩، ٥٥٢٤ کے گوشت کی اجازت دی۔ تشریح لحوم الخيل : گھوڑوں کے گوشت۔ اسلام نے حلال اور حرام کے احکام کے ساتھ طیب کی شرط رکھی ہے جو افراد موقع و محل اور مختلف جانوروں کے تعلق میں بسا اوقات بدل جاتی ہے۔ جانوروں کی حلت و حرمت کے حوالے سے قرآن کریم نے صرف ایک جانور کا نام لے کر اسے حرام قرار دیا ہے اور وہ ہے سور۔ نیز اسلام نے جانوروں کی دو قسموں کو بھی حرام قرار دیا ہے جو یہ ہیں۔ الف: ذی ناب یعنی کچلی والے جانور ۔ ب: ذی ظفر یعنی پنجوں سے شکار کرنے والے جانور۔ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کو رجس قرار دے کر حرام قرار دیا ہے (روایت نمبر ۵۵۲۸) مگر گھوڑے کو کہیں حرام قرار نہیں دیا گیا بلکہ جیسا کہ بخاری کی مذکورہ روایت نمبر (۵۵۱۹) میں واضح ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ میں گھوڑا ذبح کیا گیا