صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 463 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 463

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۶۳ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد وَعَائِشَةُ۔سے اس کو ذبح کر دو۔اور حضرت علی اور حضرت ابن عمرؓ اور حضرت عائشہ کی بھی یہی رائے تھی۔٥٥٠٩: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۵۵۰۹: عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ يحي حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ( بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔سفیان (ثوری) أَبِي عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا:) میرے خَدِيجٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ باپ سعید بن مسروق) نے ہم سے بیان کیا۔قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُو سعید نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے، غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا هُدًى فَقَالَ اعْجَلَ عبایہ نے حضرت رافع بن خدیج سے روایت کی۔أَوْ أَرِنْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ وہ کہتے تھے۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کل فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفَرَ وَسَأَحَدِثُكَ دشمن سے ہماری مڈ بھیڑ ہو گی اور ہمارے پاس أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى چھریاں نہیں۔آپ نے فرمایا: ابھی سے جلدی کرو، یا (فرمایا:) آرن یعنی (خوشی سے اچھل کر ) الْحَبَشَةِ وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمِ لیکو، جو بھی خون کو بہارے اور اللہ کا نام اس پر لیا فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهُم جائے وہ کھاؤ۔دانت اور ناخن نہ ہو اور میں تمہیں فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ بتائے دیتا ہوں کہ دانت جو ہے وہ تو ہڈی ہے اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ ناخن جو ہے تو حبشیوں کی چھریاں ہیں۔اور ہم نے كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا کچھ اونٹ اور بکریاں غنیمت میں پائیں اور ان شَيْءٍ فَافْعَلُوْا بِهِ هَكَذَا۔میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا تو ایک شخص نے اس کو تیر مار کر ٹھہر ادیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اونٹوں میں بھی ایسے جانور ہیں جو قابو میں نہیں آتے جیسے جنگلی جانور ہوتے ہیں جب ان میں سے کوئی جانور تم کو بے بس کر دے تو پھر اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔أطرافه ۲٤٨٨ ،۲۰۰۷، ۳۰۷۵ ، ،٥٤٩٨ ٥٥٠٣، ٥٥٠٦ ٥٥٤٣، ٥٥٤٤۔