صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 464
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۶۴ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد بَاب ٢٤ : النَّحْرُ وَالذَّبْحُ نحر اور ذبح ( میں فرق) وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ لَا ذَبْحَ ابن جریج نے عطاء بن ابی رباح) سے نقل کیا۔وَلَا نَحْرَ إِلَّا فِي الْمَذْبَحَ وَالْمَنْحَرِ، نہ ذبح کیا جائے اور نہ ہی نحر مگر اسی جگہ جہاں ذبیح قُلْتُ أَيَجْزِي مَا يُذْبَحُ أَنْ أَنْحَرَهُ قَالَ کیا جاتا ہے اور جہاں نحر کیا جاتا ہے۔( ابن جریج نَعَمْ ذَكَرَ اللهُ ذَبْحَ الْبَقَرَةِ فَإِنْ نے کہا: میں نے پوچھا: کیا یہ کافی ہو گا کہ جسے ذَبَحْتَ شَيْئًا يُنْحَرُ جَازَ وَالنَّحْرُ ذبح کیا جاتا ہے اسے میں نحر کروں۔انہوں نے أَحَبُّ إِلَيَّ وَالذَّبْحُ قَطْعُ الْأَوْدَاجِ کہا: ہاں۔اللہ نے گائے کے ذبح کئے جانے کا ذکر قُلْتُ فَيُخَلِّفُ الْأَوْدَاجَ حَتَّى يَقْطَعَ کیا ہے اگر تم کسی ایسے جانور کو ذبح کرو جس کو نحر النِخَاعَ قَالَ لَا إِخَالُ۔وَأَخْبَرَنِي نَافِعٌ کیا جاتا ہے تو جائز ہے اور نحر مجھے زیادہ پسند ہے۔أَنَّ ابْنَ عُمَرَ نَهَى عَنِ النَّخْعِ يَقُوْلُ اور ذبح کے معنی گردن کی رگوں کو کاٹتا ہے۔يَمُوتَ۔ابن جریج کہتے تھے۔میں نے پوچھا: جو کوئی يَقْطَعُ مَا دُوْنَ الْعَظْمِ ثُمَّ يَدَعُ حَتَّى گردن کی رگوں کو کاٹ کر حرام مغز تک پہنچ جائے اور اس کو کاٹ دے؟ انہوں نے کہا: میں خیال نہیں کرتا کہ ایسا کرے۔اور مجھے نافع نے بتایا کہ حضرت ابن عمرؓ نے حرام مغز کاٹنے سے منع کیا۔کہتے تھے کہ ہڈی سے ورے ورے ہی کاٹے پھر چھوڑ دے کہ وہ خود ہی مر جائے۔وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَاِذْ قَالَ مُوسی اور اللہ تعالٰی کا یہ فرمانا: اور (اس وقت کو بھی یاد لِقَوْمِهِ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةٌ کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں إِلَى فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔چنانچہ انہوں (البقرة: ٦٨-٧٢) وَقَالَ سَعِيْدُ بْنُ نے اس (گائے) کو ذبح کر دیا، گو وہ ایسا کرنے پر جُبَيْر عَنِ ابْنِ عَبَّاس الذَّكَاةُ فِي آمادہ نہ تھے۔اور سعید بن جبیر نے حضرت