صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 454 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 454

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۵۴ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد شريح : مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَالْأَصْنَام : جو تھانوں پر اور بتوں کے لئے ذبح کیا جائے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چوتھی چیز جسے حرام قرار دیا گیا ہے وہ ہے جو شرک کے طور پر ذبح کی جائے اور اس کے قربان کرنے کا باعث خدا تعالیٰ کے سوا اور ہستیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خواہش ہو۔چونکہ اس میں خدائے وحدہ لا شریک کی ہتک کی جاتی ہے اور اس کی صفات دوسری ہستیوں کو دی جاتی ہیں اس لئے اس کو استعمال کرنا انسان کو بے غیرت بناتا ہے بلکہ در حقیقت ایسے جانور کو کھانا دلی ناپاکی اور بے غیرتی کی علامت ہے۔پس اسلام نے اس کو بھی حرام قرار دیا ہے۔یہ حرمت اس کے طبعی نقصانات سے نہیں بلکہ دینی نقصانات کی وجہ سے ہے کیونکہ جو شخص کسی ایسے جانور کا گوشت کھاتا ہے جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو وہ اس بات کا ثبوت بہم پہنچاتا ہے کہ اُسے خدا تعالیٰ کی توحید سے کوئی محبت نہیں۔وہ بظاہر خدا تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے مگر اپنے باطن میں اس نے اور بھی کئی بہت چھپارکھے ہیں جن کی وہ پرستش کرتا ہے۔پس اس کا کھانا اس کے دل کو نا پاک کرتا اور اُسے مشرکوں کا ہمرنگ بنا دیتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر، سورة البقرة زير آيت إنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ۔جلد دوم صفحه ۳۴۳،۳۴۲) لقى زَيْد بْن عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زید بن عمرو بن نفیل سے بلدح کے نشیب میں ملے۔زید بن عمرو بن نفیل قریشی ہیں اور یہ حضرت سعید بن زید کے والد ہیں جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔زید زمانہ جاہلیت میں ابراہیمی دین پر تھے۔زیر باب حدیث میں جو یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کے سامنے کھانا رکھا اور زید نے یہ کہہ کر کھانے سے انکار کر دیا کہ میں بتوں پر ذبح کیا گیا کھانا نہیں کھاتا اور نہ وہ کھاتا ہوں جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔یہ بات درست نہیں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کے سامنے کھانا نہیں رکھا تھا۔امر واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا رکھا گیا۔آپ نے کھانے سے انکار کیا اور زید نے بھی یہی کہا کہ میں بتوں پر ذبح کیا گیا نہیں کھاتا۔جس کی تفصیل بخاری کتاب المناقب (روایت نمبر ۳۸۲۶) میں بیان کی گئی ہے۔زید بن عمرو قریش کی قربانیوں کو معیوب سمجھا کرتے تھے اور کہتے تھے: بکری کو بھی اللہ نے پیدا کیا اور آسمان سے اس کے لئے پانی برسایا اور زمین سے اس کے لئے چارہ اگایا۔پھر تم اس کو اللہ کے سوا اوروں کے نام پر ذبیح کرتے ہو یعنی اس کو بر امنا یا کرتے تھے اور اس کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے۔