صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 453 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 453

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۵۳ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد کہ تم دکھوں سے محفوظ رہو) سو یہ وجہ ہے کہ ہم کسی اور مذہب کے طریق ذیح یا کسی اور غیر اسلامی طریقہ کو اختیار نہیں کرتے کہ وہ ایمان، صحت جسم اور احسان بر مخلوقات کے منافی ہیں اور اس لیے بھی کہ ان کے اختیار کرنے سے کسی نہ کسی صورت میں ہم اپنا کوئی نہ کوئی نقصان کر لیتے ہیں اور سہولتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔(روز نامہ الفضل قادیان دار الامان مورخه ۱۵اگست ۱۹۴۴ صفحه ۳ ۴ جلد ۳۲ نمبر (۱۸۲) بَاب ١٦: مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصْبِ وَالْأَصْنَامِ جو تھانوں پر اور بتوں کے لئے ذبح کیا جائے ٥٤٩٩ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ :۵۴۹۹ معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ عبد العزیز نے جو ابن المختار ہیں ہمیں بتایا۔موسیٰ أَخْبَرَنَا مُوْسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي بن عقبہ نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے کہا: مجھے سالم سَالِمٌ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ يُحَدِّثُ عَنْ نے بتایا۔انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر) رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سے سنا۔حضرت ابن عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلِ بِأَسْفَلِ وسلم سے روایت کی کہ آپ زید بن عمرو بن نفیل بَلْدَحِ وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَى سے بلدح کے نشیب میں ملے اور یہ اس وقت کا رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذکر ہے کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی الْوَحْيُ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى نازل نہیں کی گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةٌ لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ نے زید کے سامنے دستر خوان رکھا جس میں کچھ يَأْكُلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَا أَكُلُ مِمَّا گوشت تھا۔زید نے اس کے کھانے سے انکار کیا۔تَذْبَحُوْنَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا آكُلُ پھر کہنے لگے : میں ان جانوروں کا گوشت نہیں کھاتا إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ۔جو تم (لوگ) اپنے تھانوں پر ذبح کرتے ہو اور صرف وہی کھاتا ہوں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔طرفه ٣٨٢٦-