صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 451
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۵۱ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد دے تو اس سے اسی طرح کرو۔عبایہ کہتے تھے: بَعِيْرٌ وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْرٌ يَسِيْرَةُ میں گھوڑے کم تھے۔انہوں نے اس کا پیچھا کیا فَطَلَبُوْهُ فَأَعْيَاهُمْ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَجُلٌ اور اس نے ان کو تھکا دیا۔اس پر ایک شخص نے بِسَهُم فَحَبَسَهُ اللهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى ہاتھ بڑھا کر اس کو تیر مارا اور اللہ نے اس کو وہی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِم روک دیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ چوپایوں میں بھی بعض ایسے جنگلی جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی۔اس لئے جو بھاگ کر تمہیں مغلوب کر مِنْهَا فَاصْنَعُوْا بِهِ هَكَذَا قَالَ قَالَ جَدِّي إِنَّا لَنَرْجُو أَوْ نَخَافُ أَنْ نَلْقَى اور میرے دادا نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں یا کہا الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدّی کہ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں کل دشمن سے مڈ بھیڑ نہ أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ فَقَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ ہو جائے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں تو کیا ہم وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ بانس کی کھپانچ سے ہی ذبح کر لیں۔آپ نے فرمایا: وَالظُّفُرَ وَسَأَخْبِرُكُمْ عَنْهُ أَمَّا السِّنُّ جو بھی خون کو گرائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفَرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ۔وہ کھاؤ مگر دانت اور ناخن نہ ہوں۔اور میں تمہیں اس کی وجہ بتا تا ہوں۔دانت جو ہے تو وہ ہڈی ہے اور ناخن جو ہیں تو وہ حبشیوں کی چھریاں ہیں۔أطرافه ۲٤٨٨ ،۲۰۰۷، ۳۰۷۵، ٥۰۰۳، ۰۰۰٦، ٥۰۰۹ ٥٥٤٣، ٥٥٤٤۔فرماتے ہیں: ح : التَّسْمِيَةُ عَلَى اللَّبِيحَةِ وَمَنْ تَرَكَ مُتَعَمِّدًا : جس جانور کو ذبح کیا جائے اس پر اللہ کا نام لیتا اور جس نے عمدا اللہ کے نام کو ترک کیا۔حضرت میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ ذبح میں تو عام قانون یہی ہے کہ (1) اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے کیونکہ وہ خدا کی مخلوق ہے اور ہم کو اس کے قتل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں سوائے اس حق کے جو مالک نے ہی ہم کو دیا ہو اس وجہ سے ہم پہلے مالک کا ہی نام لیتے ہیں یہ سمجھ کر کہ ہم کو تو اس مخلوق کے قتل کرنے کا کوئی اختیار نہ تھا صرف اس کے مالک حقیقی کی اجازت ہے جو اللہ ہے، ہم اسے مارتے ہیں تا کہ بجائے قساوت قلبی کے ہمارے دلوں میں بوقت ذبح خدا کا شکر اس کی خشیت اور اس کی مالکیت تسلیم کر لینے کا خیال جاگزیں رہے اور اس کی اجازت جو اس کے کلام قرآن مجید